.
یمن اور حوثی

آئی ایم ایف کامعاشی بحران سے دوچار یمن کو ساڑھے66 کروڑ ڈالردینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے یمن کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ساڑھے66 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔یمن کے لیے فنڈ کے علاقائی نمائندے نے کہا ہے کہ اس رقم سے جنگ زدہ ملک میں شدید معاشی اور انسانی بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ رقم آئی ایم ایف کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس کے 650 ارب ڈالر کے مختص فنڈ میں سے دی جائے گی-اس فنڈ کے ایکسچینج یونٹ کو ڈالر، یورو، ین، سٹرلنگ اور یوآن کرنسیوں کی معاونت حاصل ہے،اس میں ریاستیں اپنے موجودہ کوٹاشیئر ہولڈنگ کے تناسب سے رقوم حاصل کرسکتی ہیں۔

آئی ایم ایف کے علاقائی نمائندے غازی شبیکات نے ایک بیان میں کہا کہ ایس ڈی آر سے مختص سے رقوم سے یمن کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں 70 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔اس سے بحران سے نمٹنے میں انتہائی ضروری مدد ملے گی اور یمنی آبادی کی خوراک ، ادویہ اور طب کی فوری ضروریات کو پورا کیا جاسکے گا۔

یمن میں گذشتہ چھے سال سے جاری جنگ کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائرقریباًختم ہو چکے ہیں۔یمن خوراک سمیت بہت سی ضروری اشیاء درآمد کرتا ہے اور قریباً 80 فی صد یمنی آبادی کا بیرونی امداد پرانحصار ہے۔

یمن اس وقت جنوب میں قائم بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ حکومت اور دارالحکومت صنعاء پر قابض ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان منقسم ہے۔حوثیوں نے ستمبر2014 ء میں صدرعبد ربہ منصورہادی کی حکومت کو دارالحکومت سے بے دخل کر دیا تھا اور تب سے ان کا ملک کے شمالی صوبوں اور اہم شہری مراکزپر قبضہ برقرارہے۔