.

ایران کے مجوزہ وزیر خارجہ کا علاقائی ملیشیاؤں کی امداد جاری رکھنے کا عزم‎‎

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نامزد وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ خطے میں ایران کی وفادار ملیشیاؤں کی حمایت ان کے اہم پروگراموں میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کا فخر سے ساتھ دیں گے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں اپنی اہلیت پر غور کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران امیر عبداللہیان نے اعلان کیا کہ یہ گروپ [ملیشائیں] خطے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ان کے پاس خطے کی سلامتی کو تحفظ دینے کے علاوہ بہت سی دیگر صلاحیتیں ہیں۔

ایران انٹرنیشنل ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ حسین امیر عبداللہیان عرب امور کے لیے محمود احمدی نژاد کی حکومت میں نائب وزیر خارجہ تھے۔ 2017 میں محمد جواد ظریف کی طرف سے ان کی برطرفی کے بعد ایرانی میڈیا نے لکھا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی نگران القدس بریگیڈ کے قریب تھے۔

امیر عبداللہیان نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں کہا کہ وہ وزارت خارجہ کو جوہری معاہدے سے نہیں جوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت میں جوہری معاہدے پر مذاکرات "مکمل" نہیں ہوں گے اور ایرانیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ابراہیم رئیسی کے وزارت خارجہ کے مرکزی امیدوار حسین امیر عبداللہیان نے ایک ہفتہ قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ایرانی خارجہ پالیسی کے شعبے میں القدس بریگیڈ کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے طرز پر عمل کریں گے۔

سبیدن شہر کے رکن پارلیمنٹ محسن علی زادہ نے عبداللہیان کے بیانات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کو ناکام جوہری معاہدے کی وزارت سے پاسداران انقلاب کی وزارت خارجہ میں تبدیل ہونا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اسرائیلی تھنک ٹینک" امیر عبداللہیان کے حامیوں کو کم کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ حسین عبداللہیان نے ایرانی پارلیمنٹیرینز سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں ووٹ دیں اور ان کی نامزدگی کا تائید کریں۔