.

ترک صدر 22 ملین ڈالرز مالیت کا سالانہ پانی ڈکار جاتے ہیں؟

!کیا صدر ایردوآن اتنے پانی سے باغ کو سیراب کرتے ہیں؟ ترک رکن پارلیمنٹ کا سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی کے ایوان صدر میں سالانہ 187 ملین ترک لیرا [22 ملین ڈالر] مالیت کا پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس امر کی تصدیق حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مانیٹرنگ رپورٹ میں کی گئی ہے جس نے صدر رجب طیب ایردوآن کے پرتعیش طرز زندگی کو ایک بار پھر آشکار کیا ہے۔

مانیٹرنگ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ترکی کی اپوزیشن جماعتوں نے حکمراں جماعت اور صدر ایردوآن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ طیب ایردوآن تو کسی دور میں صدارتی محل بنانے کے بھی حامی نہیں تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پرتعیش زندگی کے لیے تین لگژری محل بھی کم سمجھے جا رہے ہیں۔

ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے ترک آڈٹ بیورو کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مواد پر تنقید کی ہے۔ اپوزیشن نے ایوان صدر میں پینے کے پانی پر اٹھنے والے اخراجات کو "عوامی پیسے کا ضیاع" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایوان صدر میں سالانہ لاکھوں ڈالر مالیت کا پانی پیا جاتا ہے؟

مرکزی اپوزیشن پارٹی کے رکن پارلیمنٹ علی ماہر بشاریر نے ترکی کی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی محل میں پینے کے پانی پر اتنا پیسہ بہانے کی بات سن کر دل مجروح ہوتا ہے۔ ایک طرف ترک اساتذہ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ان کی جیبوں میں 10 لیرا بھی نہیں ہوتے ہیں۔ فنکار اپنی مشکل زندگی کے نتیجے میں خودکشی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے جب کہ صدارتی محل 187 ملین ترک لیرا صرف پینے کے پانی پر خرچ کرتا ہے۔

رجب طیب ایردوآن اپنے پرتعیش صدارتی محل میں
رجب طیب ایردوآن اپنے پرتعیش صدارتی محل میں

ترک رکن پارلیمنٹ نے خطاب میں صدارتی محل میں پینے کے پانی پر بھاری رقم خرچ کرنے پر طنز کیا اور اس کا تمسخر اڑایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید وہ [ایردوآن] محل کے باغیچوں کو بھی پینے کے پانی سے سیراب کرتے ہوں گے؟

ترکی کے ماہر معاشیات اور یونیورسٹی کے پروفیسر فیصل اولوسوی نے کہا کہ محل اور حکومت کی طرف سے اخراجات کی شکل اور سطح ہمارے معاشرے میں طرز زندگی کی نمائندگی نہیں کرتی اور نہ ہی یہ بھاری بھرکم اخراجات ترکی کی مجموعی قومی پیداوار [جی ڈی پی] سے ہم آہنگ ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ ہمارے پاس متوازی حکومتی سسٹم ہیں جن کے براہ راست اخراجات ترک معاشرے کے کندھوں ہر بوجھ بن رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر روز لوگ غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ محل اور حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اخراجات سے بچائے گی۔ اسی طرح ہم ان دوہرے بحرانوں پر قابو پا سکیں گے۔

ترک آڈٹ بیورو کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب چند ماہ قبل حکمراں "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی نے ترکی میں معاشی بحران کے بعد شہریوں سے کفایت شعاری اختیار کرنے پر زور دیا تھا۔