.

صدر قیس سعید پر مبینہ قاتلانہ حملے کا منصوبہ ساز لیبیا سے تونس میں داخل ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس کے سکیورٹی حکام نے ملک کے صدر قیس سعید کے مبینہ قتل کے منصوبے کو ناکام بنانے کا دعوی کیا ہے۔ صدر قیس سعید پر حملے کا منصوبہ اس وقت بنایا گیا تھا جب وہ مشرقی تونس کے ایک ساحلی شہر کے دورے پر روانہ ہو رہے تھے۔

"العربیہ" اور "الحدث" ٹی وی چینلوں کے نامہ نگار نے بتایا کہ ملزم ایک تونسی شہری ہے۔ اس کا تعلق "داعش" تنظیم سے بتایا جاتا ہے اور اس نے حال ہی میں لیبیا سے تونس کی سرحد عبور کی تھی۔ وہ لیبیا میں عسکری تربیت حاصل کرتا رہا ہے۔

تونس کے صدر کے مشیر نے ’’العربیہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر سعید کی ملک میں اصلاحات کوششوں میں خلل ڈالنے کی سوچی سمجھی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’کہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال نازک ہے۔ ہم لیبیا کے ساتھ سکیورٹی کے ضمن میں تعاون کر رہے ہیں۔

اتوار کے روزنامہ الشرق نے اطلاع دی تھی کہ ملزم جمہوریہ تونس کے صدر کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا تھا جب اسے گرفتار کیا گیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ بہ ظاہر لگتا ہے کہ صدر قیس سعید پر حملے کی منصوبہ بندی اس کا انفرادی فعل ہے۔

کچھ دن پہلے تونس کے مشرق میں واقع مونستیر گورنری میں سکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا جس نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ "فیس بک" کے ذریعے جمہوریہ کے صدر کے قتل پر اکسانے کے علاوہ انٹرنیٹ سے دہشت گردی سے متعلق مواد بھی ڈاؤن لوڈ کیا تھا۔

جمعہ کے روز تونس کے صدر قیس سعید نے سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ ان کے ’’قتل کی سازشیں‘‘ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مخالفین ملک میں قتل اور خون خرابہ چاہتے ہیں۔ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اگر انہیں مار دیا گیا تو وہ شہید ہوں گے۔‘‘