.
افغانستان وطالبان

طالبان کی درخواست پرایران سے افغانستان کو پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے طالبان کی درخواست کے بعد افغانستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات دوبارہ شروع کردی ہیں۔

ایران کی آئل ، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمدکنندگان کی یونین نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی درخواست پر چند روز قبل ایندھن کی برآمدات بحال کردی گئی تھیں۔

طالبان نے گذشتہ ہفتے افغانستان پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔اس کے بعد بڑے شہروں میں افراتفری کا عالم پیدا ہوگیا تھا اورلوگوں وہاں سے دیہات کا رُخ کرنے لگے۔ دارالحکومت کابل سے ہزاروں افغانوں نے بیرون ملک جانے کے لیے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پڑاؤ ڈال دیا تھا۔اس چند روزہ افراتفری کے دوران میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا تھا اور گیسولین کی قیمت 900 ڈالر فی ٹن ہوگئی تھی۔

طالبان کی نئی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ایرانی حکومت سے تاجروں کے لیے سرحدکھلی رکھنے کی درخواست کی تھی۔

تہران میں ایرانی پٹرولیم برآمدکنندگان کی یونین کے بورڈ ممبراور ترجمان حامد حسینی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے ایران کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمد جاری رکھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض ایرانی تاجروں نے افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال پراپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔اس کے علاوہ طالبان نے ایران سے درآمد کیے جانے والے ایندھن پر ٹیرف میں بھی 70 فی صد تک کمی کردی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں افغان کسٹم تنظیم کی ایک دستاویزی بھی دکھائی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ملک کو گیسولین اور گیس آئل برآمد کرتا ہے۔ایک سرکاری دستاویزکے مطابق ایران نے مئی 2020ء سے مئی 2021ء تک افغانستان کو چار لاکھ ٹن ایندھن برآمد کیا تھا۔