.
افغانستان وطالبان

افغان جنگ میں اسرائیل نے کیسے کردار ادا کیا؟ چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج نے 20 سال کے دوران طالبان کے خلاف اپنی جنگ میں کئی اسرائیلی ساختہ ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے پیر کے روز شائع رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اسرائیل نے کبھی بھی افغانستان میں اپنی افواج کو زمین پر تعینات کرنے کا اعلان نہیں کیا لیکن افغان جنگ میں براہ راست حصہ لینے والے ممالک خاص طور پر برطانیہ ، جرمنی ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے اسرائیلی ساختہ جنگی ہتھیار استعمال کیے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج کے افغانستان میں کسی جنگی مشن میں حصہ لینے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا مگر ذرائع سے یہ پتا چلا ہے کہ اسرائیلی فوجی دستے کچھ عرصے کے لیے انٹیلی جنس معلومات اکھٹی کرنے کے لیے افغانستان میں تعینات رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں گذشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں اپنی مصنوعات کے استعمال کے بارے میں خاموش رہی ہیں۔

ڈرون اور میزائل

اسرائیل نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کو جو ہتھیار سپلائی کیے ہیں ان میں اسرائیلی ساختہ سپائیک میزائل کے علاوہ انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے ڈرون بھی شامل تھے۔

اس فہرست میں ہلکی فوجی ٹیکٹیکل گاڑیاں (MRAP) بھی شامل ہیں جو کہ اسرائیلی ساختہ اور اور بارودی سرنگوں سےبچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ان گاڑیوں نے اتحادی افواج کو زیادہ کثافت والے علاقوں میں محفوظ طریقے سے چلنے میں مدد فراہم کی تھی۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کا ڈرون سسٹم افغانستان میں غیر ملکی افواج کے زیر استعمال رہنے والے اسرائیلی ہتھیاروں میں شامل رہا ہے۔

ہتھیاروں کا بڑا سپلائر

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل طالبان کے خلاف جنگ میں "ڈرون کا بڑا سپلائر" تھا۔ اسرائیل نے یہ طیارے آسٹریلیا ، کینیڈا ، چلی ، کولمبیا ، فرانس ، جرمنی ، بھارت ، میکسیکو ، سنگاپور اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک کو فروخت کیے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ جرمن فضائیہ نے 2010 میں افغانستان میں اسرائیلی ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے تیار کردہ "Heron TP" ڈرونز کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’ہیرون ٹی پی‘ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا ایک جدید ترین روبوٹک آپریٹنگ سسٹم ہے جس میں 40 گھنٹے تک پے لوڈ فضا میں رکھنے کی گنجائش ہے۔ زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن کی گنجائش11،685 پاؤنڈ اور پے لوڈ 2،204 پاؤنڈ ہے۔ ان کا استعمال جاسوسی ، جنگی مشنوں اور معاون طیاروں کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔ یہ دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فضا سے زمین تک مار کرنے والے میزائل بھی لے جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جرمن پائلٹوں کو اسرائیل میں تربیت دی گئی کہ وہ بغیر پائلٹ ڈرونز کیسے چلائیں۔ انہیں ان کی نگرانی کی ٹریننگ دی گئی۔ کینیڈین اور آسٹریلوی پائلٹوں نے افغانستان میں اسرائیلی ہیرون 1 طیارے بھی استعمال کیے۔

یہ طیارے سیٹلائٹ اور انفراریڈ فوٹو الیکٹرک سینسر کے سلسلے میں ڈیٹا لنک سے لیس ہیں۔

Heron 1s نہ صرف جنگی حالات میں زمینی افواج کو جاسوسی کی صلاحیت فراہم کرنے کرتا ہے بلکہ وہ فضا سے دھماکہ خیز مواد کو ٹریک کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کئی طیارے افغانستان میں گر کر تباہ ہوئے۔

اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ 2005 کے بعد سے افغانستان میں آسٹریلوی فوج نے اسرائیلی "ایلبٹ سسٹمز" کے تیار کردہ "سکائی لارک 1" ڈرون بھی استعمال کیے ہیں۔

ساڑھے سات فٹ کا یہ ماڈل فوجیوں کی جانب سے ٹیکٹیکل نگرانی اور قریبی رینج کے انسداد دہشت گردی کے مشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان طیاروں کو ایک یا دو سپاہی لانچ کر سکتے ہیں.یہ عمارتوں کی چھتوں پر یا بکتر بند فوجی ٹرکوں کے عقبی حصے سے چلائے جاتے ہیں۔ یہ ڈرون آپریٹرز کو پرواز کے بعد براہ راست ویڈیو کوریج فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا نے عراق میں بھی فوجی مشن کے دوران اسکائی لارک استعمال کیے تھے۔

اسرائیلی میزائل

ڈرون کے علاوہ اسرائیلی کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم کے سپائیک ’این ایل او ایس‘ میزائل افغانستان میں برطانوی اور کینیڈین فوجی اہلکار استعمال کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میزائلوں نے طالبان کے خلاف لڑائیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ اگرچہ برطانوی آرمی نے ان کے استعمال کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے 2014 میں ان میزائلوں کے استعمال کا عوامی سطح پر اعتراف کیا تھا۔

افغانستان میں اسرائیلی کردار صرف ہتھیاروں کے نظام تک محدود نہیں تھا۔ سنہ 2019 میں ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایاگیا تھا کہ اسرائیلی افواج افغانستان میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کابل بھیجی گئی تھیں

اس وقت روسی "سپوتنک" ایجنسی نے اسرائیلی امور کے ایک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج وہاں تعینات امریکی افواج کے فریم ورک کے اندر کام کر رہی تھیں۔ اسرائیل کی افغانستان میں فوجی سرگرمیوں کی افغان حکومت کی طرف سے باقاعدہ منظوری دی گئی تھی اور حکومت کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بارے میں علم تھا تاہم اس حوالے سے اسرائیل اور افغانستان کی حکومتوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مغربی افواج کے افغانستان سے نکل جانے اور طالبان کے ملک میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے ساتھ طالبان نے کچھ امریکی ڈرون سمیت جدید امریکی ہتھیار بھی قبضے میں لیے ہیں۔ چونکہ کینیڈا، برطانیہ اور جرمنی نے کئی سال قبل افغانستان میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اس لیے اسرائیلی ڈرون یا جنگی ہتھیاروں کے طالبان کے ہاتھ لگنے کے امکانات بہت کم ہیں۔