.

امریکا میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کا پہلا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکی فوج نے اس موسم گرما کے اوائل میں امریکی سرزمین میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام "آئرن ڈوم" کا پہلا تجربہ کیا ہے۔

وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ گذشتہ جون میں امریکا کی جنوب مغربی ریاست نیو میکسیکو میں "وائٹ سینڈس" ٹیسٹ یارڈ میں کیا گیا۔ اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ آئرن ڈوم کی بیٹریوں کی فراہمی کے 8 ماہ بعد اسرائیلی کمپنیوں کی مدد سے امریکی فوج نے آئرن ڈوم کا تجربہ کیا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنیاں "رافیل ملٹری انڈسٹریز" ، "ایلٹا سسٹمز" ، اور "ایم پریسٹ" آئرن ڈوم تیارکرتی ہیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر اس نظام کے تجربے میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔

وزارت دفاع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب امریکا میں آئرن ڈوم کے ذریعے ایک ڈرون سمیت دیگر اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ "آئرن ڈوم" ابتدائی طور پر میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اسے کئی بار اپ گریڈ کیا گیا تاکہ مارٹر گولوں، بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں اور "کروز" میزائلوں کو مار گرایا جائے۔

سنہ 2019 کے معاہدے کے تحت اسرائیل نے آئرن ڈوم کی دو بیٹریاں امریکا کو فروخت کیں جن میں سے پہلی 2020 کے آخر میں اور دوسری جنوری 2021 میں فراہم کی گئی تھی۔ .

اسرائیلی اخبار لکھتا ہے کہ تل ابیب "آئرن ڈوم" سسٹم کو بیرون ملک فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے مگر اسرائیل اس کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی لیک ہونے کی صورت میں دُشمن ان معلومات کو نظام کا توڑ نکالنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

مارچ 2020 میں امریکی فوج نے اس حقیقت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا کہ اسے آئرن ڈوم کے مرکزی پروگرامنگ کوڈ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں اضافی خریداری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

ستمبر 2020 میں رافیل کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ کمپنی فعال طور پر امریکی فوج کو اضافی سسٹم کی فروخت پر بات چیت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی سمجھتی ہے کہ امریکا کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔