.

امریکا میں افغانستان سے نکال کرلائے گئے تمام افراد کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دار نے کہا ہے کہ افغانستان سے نکال کرامریکا لائے گئے تمام افراد کاکووِڈ-19 کا پی سی آر ٹیسٹ ہوگا۔اس کا مقصد انھیں ویکسین لگانے کے لیے ایک نظام وضع کرنا ہے۔

اس عہدہ دار کے بہ قول افغانستان سے انخلا کے آپریشن کی تیزی کی وجہ سے امریکا آنے والے افغانوں کی تعداد غیرمتعیّن ہے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں ان تارک وطن افغانوں کے کوئی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ امریکا کے قانون نافذکرنے والےاداروں اور انسداد دہشت گردی کے حکام جلا وطن ہوکرآنے والے افغانوں کی بھرپور طریقے سے جانچ پرکھ کررہے ہیں اور اس کے بعد انھیں امریکا میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔

اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کے بعد امریکی تواپنے گھروں کارُخ کر سکتے ہیں جبکہ افغان اور دیگرغیرملکیوں کو مختلف امریکی فوجی اڈوں پر منتقل کیا جائے گا جہاں انھیں کام کی اجازت کے لیے درخواست دینے میں مدد دی جائے گی۔نیزتارکِ وطن افغانوں کو مہاجرین کی آبادکاری کی ذمے دارتنظیموں کے سپردکیا جائے گا۔

صدرجوبائیڈن کی انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ 31 اگست سے قبل کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے امریکی شہریوں اور دیگراتحادیوں کو نکالنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے ہیں۔

طالبان کے کنٹرول کے بعد کابل کے ہوائی اڈے پر گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران میں افراتفری کا عالم دیکھا گیا ہے اور ہزاروں افغان اور امریکی یا مغربی شہری انخلا کے لیے وہاں جمع ہوگئے تھے۔انھیں کمرشل یا فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے امریکا منتقل کیا جارہا ہے۔

افغانستان کے نئے حکمران طالبان نے منگل کے روز کہا کہ ملک سے تمام غیرملکی 31 اگست تک واپس چلے جائیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نیوزکانفرنس میں واضح کیا ہے کہ وہ غیرملکی فوجیوں کے افغانستان میں قیام میں توسیع پر رضامند نہیں ہوں گے۔