.

اُندلس کے مشہور عرب شاعرکا نایاب مخطوطہ سعودی عرب میں محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں قائم شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں ایک ایسا نسخہ موجود ہے جو شاید ’روضہ الانس ونزھۃ النفس‘ مخطوطے کا اس وقت دنیا میں دستیاب واحد نسخہ ہے۔ اس مخطوطے کا پہلا حصہ معروف اندلسی شاعر ابو البقاء الرُندی المتویٰ 684 ہجری بہ مطابق 1285ء کا لکھا گیا ہے۔ ابو البقا ساتویں صدی ہجری (601 تا 684ھ) میں اندلس کے بڑے شعرا میں سے شمار کیے جاتے تھے۔ ویسے تو انہوں نے عربی زبان میں کئی قصاید لکھے مگر’ن‘ پر ختم ہونے والے ان کے ایک قصیدے نے عرب دنیا میں غیرمعمولی مقبولیت اور شہرت حاصل کی۔ اس کا ایک مطلع کچھ یوں ہے۔

لكل شيء إذا ما تم نقصانُ

فلا يغرّ بطيب العيش إنسانُ

’انسان کو زندگی کے عیش وآرام سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ ہرمکمل ہونے والی چیز گھٹ جاتی ہے‘۔

مخطوطے کی تاریخ

سعودی عرب میں محفوظ اس تاریخی عربی مخطوطے کونقل کرنے کی تاریخ سال 675 ہجری بیان کی جاتی ہے۔ اس نسخے کا شمار تاریخ اور جغرافیہ کے علوم میں ہوتا ہے۔ یہ اندلس کے رسم الخط میں لکھا گیا تھا جس کے صفحات کی تعداد142 اور ایک صفحے پر سطور کی تعداد 23 تھی۔

مخطوطہ اندلس کے رسم الخط میں لکھا گیا تھا۔ نسخے کے لیے گلابی مائل رنگ کے موٹے کاغذ کا استعمال کیا گیا اور اس پر روشنائی سے لکھا گیا۔ نسخے میں بیان کردہ مختلف موضوعات کے ابواب اور ان کے عنوانات کو جلی اور واضح حروف میں لکھا گیا۔ بعض صفحات پر کتابت میں ترمیم بھی نظر آتی ہے۔ جہاں تک اس کے بائنڈنگ کی بات ہے تو یہ ایک جدید بائنڈنگ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائنڈنگ بہت بعد میں کی گئی۔

جلد گہری سرخ ہے۔ جلد کے درمیان میں پیالی نما مزین پپالہ ہے اور اس کے چاروں طرف سنہری سجاوٹ کی گئی ہے۔ مؤلف نے یہ نسخہ اس وقت کے غرناطہ کے سلطان ابو عبداللہ بن نصر محمد کے لیے وقف کیا تھا۔

مخطوطے کا آغاز مندرجہ ذیل الفاظ سے ہوتا ہے۔ "قابل احترام اور معزز فقیہ اور الشیخ ابو الطیب صلاح شریف الرُندی اعزہ اللہ کہتے ہیں کہ ہرچیز کے وجود سے پہلے اور ہرچیز کے وجود کے اختتام کے بعد اور تمام دلائل وبراہین کے ثبوت کے بعد تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ "

مخطوطے کے آخر جملوں کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔

"پھر وہ اس پر کھڑا ہوا اور اسے شدید پیاس لگی۔ (...)۔ اس کے گاؤں سے پھر وہ اپنے گڑھے کی جگہ سویا۔ پھر اس سے ایک بڑا سانپ نکلا اور کہا نیچے آؤ۔

مصنف نے نسخے کو بیس ابواب میں تقسیم کیا۔ نویں باب یعنی باب الفتوح میں مصر اور اسکندریہ کی فتوحات کا تذکرہ کیا ہے۔

ابو البقا الرندی کون ہیں؟

رندہ جنوبی اندلس میں ایک شہر کا نام ہے۔ یہ شہر اپنے دور میں شعرا کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ الشیخ رندی بھی انہی شعرا میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک مصنف اور فقیہ بھی تھے اور ریاضی کے علوم سے بھی اچھی خاصی شناسائی تھی۔ ان کی تالیفات میں’الوافی فی نظم القوافی‘ مخطوطہ (روضة الأنس ونزهة النفس) جس کا ایک حصہ آج موجود ہے۔اس کے علاوہ ان کی کئی دوسری تالیفات اور تصنیفات تھیں۔ گم شدہ اشعار پر مشتمل ایک دیوان اور متعدد مکتوبات بھی ان کی تصنیفی کاوشوں میں شامل ہیں۔

ابو البقا الرندی کی کتاب کا عنوان دوسری کتابوں سے ملتا جلتا ہے جیسے الثعالبی کی "الوداع الانس و نزہت الروح و النفس" از الثعلیبی، سرقطی کی "روضۃ الانس و نزہت النفس اور الصیرفی کی "نزهة النفوس والأبدان في تواريخ الأزمان" شامل ہیں۔

مخطوطے میں زمین اور ملکوں کے بارے میں معلومات ہیں۔ اس کے علاوہ ابو البقا الرندی اس میں انسان کے آغاز ، سیرت النبی عليه الصلاة والسلام، عباسی اور اموی خلفا کے حالات، مُملکت اور ریاست، سائنس، شعر، مالیات، خواتین، اولاد، حکایات اور دانش اور حکمت کی باتیں بھی بیان کرتے ہیں۔