.

سی آئی اے کے سربراہ کی کابل میں ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات: واشنگٹن پوسٹ کا دعوی

سی آئی اے کا ملاقات سے متعلق خبر پر تبصرے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کثیر الاشاعت امریکی روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کے حوالے سے اپنی منگل کی اشاعت میں دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے پیر کے روز طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اخوند سے کابل میں ملاقات کی۔

امریکی صدر جو بائیڈن حکومت کے کسی اعلیٰ عہدیدار اور طالبان کی قیادت کے درمیان ہونے والی اس مبینہ ملاقات میں افغانستان سے امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن سے متعلق بات چیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سی آئی اے کا تبصرے سے انکار

امریکا کی مرکزی اٹنلیجنس ایجنسی نے طالبان قیادت سے اعلی امریکی عہدیدار کی ملاقات پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

طالبان کے ایک اعلی عہدیدار نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ملا برادر ہفتے کے روز طالبان اور دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق مذاکرات کے لیے کابل پہنچے تھے۔

سی آئی اے سربراہ کے ساتھ طالبان قیادت کی ملاقات سے متعلق خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن کو افغانستان سے امریکیوں کے اںخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع سے متعلق بین الاقوامی اتحادیوں سمیت کئی اطراف سے دباؤ کا سامنہ ہے۔

برطانیہ، فرانس سمیت کئی دوسرے ملکوں نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ کابل سے ان تمام افراد کے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کریں کیونکہ اس وقت تک ایسے تمام افراد کو ملک سے باہر نکالنا ممکن نہیں جو بیس برس تک امریکہ کی افغانستان میں لڑائی میں سہولت کار کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب طالبان کے ترجمان 31 اگست کے بعد امریکی یا اتحادی فوج کی موجودگی کو ریڈ لائن قرار دے کر خطرناک نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔
رواں مہینے کے وسط سے کابل کا حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈا افراتفری کا منظر پیش کر رہا ہے کہ جہاں پر ملک چھوڑنے کے خواہش مند مقامی اور غیر ملکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔