.
افغانستان وطالبان

طالبان کا افغانستان سے غیرملکی فوج کےانخلاکی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنےکااعلان

افغان شہریوں کے کابل ائیرپورٹ جانے پرپابندی عاید،وادیِ پنج شیرسے ہمارے بھائی کابل لوٹ آئیں:ترجمان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا کے لیے 31اگست کی ڈیڈلائن میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کا کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا نے انخلا میں توسیع کا یک طرفہ فیصلہ ہے اوریہ دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اورامریکیوں سے کہیں گے کہ وہ مقررہ تاریخ تک ملک سے انخلا مکمل کریں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز دارالحکومت کابل میں اپنی دوسری نیوزکانفرنس میں اپنی حکومت کے نئے بعض فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں بتایا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکیوں کے پاس وسائل ہیں، طیارے ہیں، ائیرپورٹ ان کے زیراستعمال ہے، اور وہ مقررہ تاریخ تک انخلا مکمل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان تحریک کے امیرمُلّا ہبۃ اللہ اخوندزادہ جلد قوم کے سامنےآئیں گے اوررہنمائی کریں گے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ ’’ہم کسی کوافغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ افغان شہریوں کے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جانے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔طالبان حکومت نے یہ فیصلہ ہوائی اڈے پربیرون ملک جانے کی کوشش میں لوگوں کے ازحام کوروکنے کے لیے کیا ہے تاکہ وہاں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ پیدانہ ہو۔اب صرف غیرملکی شہری ہی کابل ائیرپورٹ جا سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’انھیں 80 فی صد یقین ہے کہ وادی پنج شیر میں لڑائی نہیں ہوگی اور مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرلیا جائے گا۔‘‘انھوں نے کابل سے شمال میں واقع وادی پنج شیرمیں مورچہ بند ’اپنے بھائیوں‘ کوپیش کش کی ہے کہ ’’وہ کابل واپس آ جائیں۔ ہماری زندگیاں اور مقاصد مشترک ہیں۔وہ خوفزدہ نہ ہوں، لڑائی نہ کریں اور کابل لوٹ آئیں۔‘‘

انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ’’ہمارے (طالبان) کے پاس ناموں کی کوئی فہرست نہیں، ہم کسی کا پیچھا نہیں کر رہے۔ ہم نے سب کچھ بھلا دیا ہے۔ ہم ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمارا واحد مقصد اپنے ملک کی تعمیرِنو ہے۔‘‘

ترجمان نے بتایا کہ حکومت نے ملک کےتمام صوبوں سے رپورٹس منگوائی ہیں،ابھی تک کہیں بھی جنگی جرائم کی رپورٹ درج نہیں ہوئی ہے۔گذشتہ چند روز سے افغانستان میں تشدد یا قتل و غارت کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ کابل سمیت ملک کے کسی حصے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کل بدھ سے بنک کھل جائیں گے۔ میڈیانے اپنا کام شروع کردیا ہےاور صحافیوں کا اطمینان بڑھتا جارہا ہے۔طالبان کے سیاسی شعبے کے نمائندے کابل میں موجود ہیں۔ وہ تمام ممالک کے سفیروں اور قونصل جنرلوں سے ملاقاتوں میں انھیں امن اور تحفظ کی یقین دہانی کرائیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج کسی بھی ملک کی ایک اہم اکائی ہوتی ہے، ہم پہلے سے بہترفوج تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔اس میں ہمارے اپنے فوجیوں کو شامل کیا جائےگا۔ان کے علاوہ سابق فوجیوں میں سے ایلیٹ اور مضبوط لوگ بھرتی کیےجائیں گے۔تاہم اس سے متعلق آیندہ نظام حتمی فیصلہ کرے گا۔

پاکستان کے سابق صدرریٹائرڈجنرل پرویزمشرف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پرطالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’’ان ساتھ ہمیں کیا کرنا ہے،اس موضوع پرہم یہاں گفتگو نہیں کررہے ہیں۔یہ افغانستان سے باہرکا معاملہ ہے اورباہر کے کئی لوگوں نے ہم سے بےوفائی کی ہے۔‘‘

ان سے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل کے نمایندے نے یہ سوال پوچھا تھا کہ طالبان نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو کیا جنرل پرویزمشرف کو بھی معاف کردیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’وقت آنےپہ اس موضوع پر بات ہوگی۔سردست ہمارامسئلہ ہمارااپناملک ہے اورسب سے پہلے ہمیں یہاں کےمعاملات نمٹانے ہیں۔‘‘

دریں اثناء طالبان کے قائد ملّا عبدالغنی برادر سے امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم برنز نےکابل میں خفیہ ملاقات کی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کےمطابق انھوں نے افغانستان کی تازہ صورت حال اور امریکا ،دوسرے ممالک اور افغان شہریوں کے کابل سے انخلا پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر براہ راست یہ پہلا رابطہ ہے۔