.
افغانستان وطالبان

طالبان نے وزیر تعلیم اور سربراہ مرکزی بینک سمیت اہم عہدوں پر تقرریاں کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے افغانستان میں کرنسی کی کمی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر مرکزی بینک کا سربراہ مقرر کر دیا ہے جب کہ پہلی ترجیح کے طور پر ملک کے قائم مقام وزیرِ تعلیم کا تقرر بھی کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طالبان نے حاجی محمد ادریس المعروف ملا عبدالقہار کو افغانستان کے مرکزی بینک کا قائم مقام سربراہ مقرر کردیا ہے۔ نئے سربراہ نے عملے کو فوری طور ملازمتوں پر واپسی کی ہدایت کی ہے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ نئے سربراہ بینک یا مالیات کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مرکزی بینک کے سربراہ کی تقرری ایسے وقت کی گئی ہے جب ملک میں زیادہ تر بینک بند ہیں اور اے ٹی ایم میں کیش ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کرنسی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

دوسری جانب طالبان نے ہمت اخوندزادہ کو قائم مقام وزیرِ تعلیم مقرر کردیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم بھی طالبان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ نئے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ شرعی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پُرعزم ہیں۔

ادھر ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے گل آغا کو وزیر خزانہ، صدر ابراہیم کو وزیر داخلہ، نجیب اللہ انٹیلی جنس چیف جب کہ ملا شیرین کو کابل کا گورنر اور حمد اللہ نعمانی کو دارالحکومت کا میئر مقرر کیا ہے۔