.
افغانستان وطالبان

افغانستان سے انخلا کے عمل میں اسرائیل کی شمولیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل میں قائم "شائی فنڈ" نامی تنظیم امریکی حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور طالبان کے ممکنہ حملوں سے خائف مقامی لوگوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد کر رہی ہے۔

"شائی فنڈ" ایک ایسی تنظیم ہے جو امریکا میں رجسٹرڈ ہے لیکن اس کا صدر دفتر اسرائیل میں ہے۔ یہ گروپ جنگوں ، تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں انسانی امداد فراہم کرنے کے میدان میں کام کرتا ہے اور اس میں کافی مہارت بھی رکھتا ہے۔

شائی فنڈ کے سربراہ چارمین ہیڈنگ نے اسرائیلی اخبار کو بتایا کہ ان کی تنظیم امریکی فوج کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نجی طیاروں کے ذریعے انخلا کی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پروازیں کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو لے جائیں گی۔ اس کے علاہ طالبان کے حملوں کےخطرے کا شکار افغانستان کی اہم شخصیات کو بھی انخلا میں مدد دیں گی۔

ہیڈنگ نے کہا کہ ہم نے دوسری تنظیموں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا آپریشن ہے۔ ہم نے کئی نجی طیارے کرائے پر لیے ہیں لیکن یہ اقدام سویلین ہی تک محدود ہے۔

اس نے وضاحت کی کہ تنظیم طیاروں کی بکنگ کے لیے کافی فنڈ اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انخلاء کے عمل میں 10 نجی طیارے شامل ہیں اور ہر ایک 300 افراد کو لے جانے کے قابل ہے۔

"شائی فنڈ" تنظیم کی یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب طالبان نے خبردار کیا ہے کہ وہ صرف ایک ہفتے تک انخلاء جاری رکھنے کی اجازت دیں گے جبکہ بیرونی ممالک نےاپنے نمائندوں اور افغانیوں کو ملک سے باہر نکالنے کا آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔

منگل کو گروپ آف سیون کا ایک ورچوئل سربراہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کابل ایئرپورٹ سے انخلاء کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا جہاں اب بھی ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

برطانیہ سمیت کئی ممالک انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر زور دے رہے ہیں۔ امریکی حکومت اور طالبان کے درمیان ڈیل میں امریکا کو 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کرنا ہے۔