.

افغان لڑکیوں کی روبوٹکس ٹیم میکسیکو پہنچ گئی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں امریکا کی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے اور طالبان عسکریت پسندوں کے کابل پر قبضے کے بعد آل گرل افغان روبوٹکس ٹیم کی پانچ ارکان میکسیکو پہنچ گئی ہیں۔

میکسیکوسٹی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میکسیکوکی نائب وزیرخارجہ مارتھا ڈیلگاڈو نے افغان ٹیم کا والہانہ خیرمقدم کیا ہے۔اس روبوٹکس ٹیم کا رضاکاروں کے ایک بین الاقوامی گروپ کی معاونت سے افغانستان سے انخلا اور میکسیکو تک سفر ممکن ہوا ہے۔

14سال اور اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں اور خواتین پر مشتمل ٹیم روبوٹس کے بین الاقوامی میں شرکت کرے گی۔اس کو توقع ہے کہ وہ ایوارڈ جیتنے میں کامیان ہوجائے گی۔اس ٹیم نے جنگ زدہ ملک میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اوپن سورس، کم لاگت والے وینٹی لیٹر کی تیاری پر کام شروع کیا تھا۔

طالبان کے15 اگست کو افغانستان میں قبضے کے بعد سے ہزاروں افغان خواتین وحضرات بہترمستقبل کی تلاش میں نقل مکانی کرکے بیرون ملک جارہے ہیں اوراپنے وطن کے بجائے بیرون ملک پناہ گزینی کی زندگی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ہفتے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اورامریکی اتحادی طالبان کے ساتھ طے شدہ31 اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل تمام غیرملکیوں اورافغانوں کے انخلاء کے لیے کوشاں ہیں۔

میکسیکو نے افغان خواتین اور لڑکیوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔میکسیکو کے وزیرخارجہ مارسیلو ایبراڈو نے 18 اگست کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان کے ملک نے افغان مہاجرین بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی پناہ کے لیے درخواستوں پرکارروائی شروع کردی ہے۔اس ضمن میں ایران میں میکسیکو کے سفیرگوئلرمو پونٹے آرڈریکا معاونت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے قبل ازیں1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں اپنی پہلی حکومت میں اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عاید کردی تھی اورخواتین کو گھر سے باہرکام کرنے سے روک دیا تھا لیکن اس مرتبہ انھوں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا ہے۔