.

امریکی ارکان کانگریس کے ’’بغیر اجازت‘‘ دورہ کابل سے واشنگٹن میں ہنگامہ بپا ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوانِ نمائندگان کے دو اراکین نے منگل کو افغانستان کا دورہ کیا ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے سیٹھ مولٹن اور ریپبلکن جماعت کے پیٹر میجیئر دونوں سابق امریکی فوجی ہیں اور عراق کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کے نمائندوں کی حیثیت سے معلومات حاصل کرنے کابل گئے تھے۔

’امریکا پر اپنے شہریوں اور وفادار اتحادیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ ذمہ داری نبھائی جا رہی ہے۔‘

اپنے دورے کی دوران انھوں نے کابل ایئرپورٹ پر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا: کہ وہ ایک ایسے طیارے پر کابل گئے جس میں خالی نشستیں موجود تھیں تاکہ ان کی موجودگی سے کسی کا حق نہ مارا جائے۔

انھوں نے کہا افغانستان جانے سے پہلے وہ انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی حمایت کر رہے تھے تاہم کابل کی صورتحال دیکھ کر اور وہاں موجود کمانڈروں سے بات کرنے کے بعد ’یہ بات واضح ہے کہ ہم نے انخلا کا عمل شروع کرنے میں تاخیر کی کہ ہم جتنی بھی کوشش کر لیں، ہم 11 ستمبر تک بھی یہ کام مکمل نہیں کر سکیں گے۔

تاہم ان کانگریس اراکین کو اپنے دورے پر تنقید کا سامنہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

دورے کے بعد اراکین کو بھیجے گئے ایک خط میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجیئر کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے دورے امریکیوں کو نکالنے کے کام میں خلل پیدا کر سکتے ہیں اور ان سے قیمتی وسائل ضائع ہوتے ہیں۔

انھوں نے بعد میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے کئی اراکین افغانستان جانا چاہتے ہیں تاہم ان کا خیال تھا اس وقت ایسا کرنا نادانی ہوگی۔