.

سعودی عرب،اوآئی سی،عرب لیگ کاالجزائراورمراکش میں تنازع مذاکرات کےذریعے حل کرنےپرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ، اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور عرب لیگ نے الجزائر اور مراکش کے درمیان جاری تنازع کو ’’مکالمے‘‘ کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

جدہ میں قائم اوآئی سی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دونوں ہمسایہ عرب ملکوں کو اپنے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنا چاہیے۔‘‘

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے الگ سے ایک بیان میں الجزائر اور مراکش دونوں پر زوردیا ہے کہ وہ علاقائی سکیورٹی اور استحکام کے حصول کے لیے ڈائیلاگ کو ترجیح دیں۔

عرب لیگ کے سیکریٹری احمدابوالغیط نے ایک بیان میں دونوں ملکوں پر زوردیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اورکشیدگی کو بڑھاوا دینے والے اقدامات سے گریز کریں۔

الجزائر نے منگل کے روز پڑوسی ملک مراکش سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔الجزائری وزیرخارجہ رمطان العمامرہ نے ایک نیوز کانفرنس میں مراکش پرملک کے خلاف’معاندانہ اقدامات‘ کا الزام عاید کیا تھا۔

مراکش کی وزارت خارجہ نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ الجزائر کا اقدام مکمل طور پر بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہے۔اس سے پہلے الجزائر کے ایوان صدرنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مراکش کے ’مخالفانہ اقدامات‘‘ کے بعد اس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا ازسرنوجائزہ لیا جائے گا۔

اس نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ’’مراکش نے الجزائر کے خلاف مسلسل معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اس کے بعد یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر نظرثانی کی جائے اورمغربی سرحدوں پر سکیورٹی کنٹرول کومزید مضبوط بنایا جائے۔‘‘

شمالی افریقا میں واقع ان دونوں مسلم عرب ملکوں کے درمیان مغربی صحرا (صحارا) کے متنازع علاقے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔گذشتہ ماہ الجزائر کی وزارت خارجہ نے مراکش میں تعینات اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا اور مزید ممکنہ اقدامات کا بھی عندیہ دیا تھا۔

پولیساریو فرنٹ مغربی صحرا کی آزادی کے لیے مراکش کے خلاف جنگ لڑرہاہے اورالجزائر اس کا پشتیبان ہے۔ یہ علاقہ 1970ء کے عشرے کے وسط تک اسپین کی ایک کالونی رہا تھا۔اب اس پرمراکش کا قبضہ ہے اور یہ اسی کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔

اس علاقے پر تنازع کی وجہ سے الجزائراور مراکش کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان 1990ء کے اوائل سے زمینی سرحدیں بند ہیں۔