.

طالبان کابل کاہوائی اڈا چلانے کے لیے ترکی کی مدد کے طالب، مگرمکمل فوجی انخلاپراصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد ترکی سے کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا چلانے کے لیے تکنیکی مدد طلب کی ہے لیکن اس بات پراصرار کیا ہے کہ ترکی کے تمام فوجی بھی اگست کے آخر تک ملک سے واپس چلے جائیں۔

ترکی کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا ہے کہ’’ طالبان کی مشروط درخواست نے حکومت کوایک مخمصے میں ڈال دیا ہے اور اب ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑے گا۔‘‘

مسلم ترکی افغانستان میں نیٹو مشن کا حصہ تھا اور اب بھی کابل کے ہوائی اڈے پر اس کے سیکڑوں فوجی تعینات ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت گذشتہ کئی ماہ سے یہ کہہ رہی ہے کہ اگر اس سے درخواست کی گئی تو وہ ہوائی اڈے پر اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتی ہے۔

طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ترکی نے ہوائی اڈے پر تکنیکی امداد کے علاوہ سکیورٹی مہیا کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔

ترکی کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا کہ طالبان نے کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے میں تکنیکی معاونت کی درخواست کی ہے لیکن ان کی جانب سے تمام ترک فوجیوں کے انخلا کے مطالبے سے کوئی بھی متوقع مشن پیچیدگی کا شکارہوجائے گا۔

انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ترک مسلح افواج کے بغیر ہوائی اڈے پر کام کرنے والے عملہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ایک دقت طلب کام ہوگا۔قبل ازیں اس معاملے پر طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری تھے مگراس دوران میں فوجی انخلا کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔

فی الوقت یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ترکی کواپنے فوجی ہوائی اڈے پر سیکورٹی کے مقاصد کے لیے تعینات رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے تو وہ طالبان کو تکنیکی امداد مہیا کرنے پر رضامند ہوگا یا نہیں۔

ایک اور ترک عہدہ دار کا کہنا تھا کہ غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور گذشتہ 20 سال سے جاری فوجی شراکت داری کے مشن کے 31 اگست کی تاریخ تک خاتمے سے قبل کوئی حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا۔

واضح رہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کھلا رکھنا نہ صرف افغانستان کے دنیا سے مربوط ومنسلک رہنے کے لیے ناگزیر ہے بلکہ بیرون ملک سے امدادی سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

افغانستان میں عالمی خوراک پروگرام کی ڈائریکٹر میری ایلن میک گرورٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ افغانستان میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے کابل کا ہوائی اڈا ایک اہم ’لائف لائن‘ ثابت ہونے والا ہے۔

ترکی نے طالبان کے افغانستان کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کی تعریف کی تھی اور یہ کہا تھا کہ وہ ان کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز کہا تھاکہ وہ ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ترکی، ترک حکومت اورقوم کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ مگر انھوں نے واضح کیا کہ جہاں تک افغانستان میں تعینات ترک افواج کا تعلق ہے تو ہمیں اپنے ملک میں ان کی اب ضرورت نہیں رہی ہے اور غیرملکیوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد ہم خود ہی ہوائی اڈے کو محفوظ بنا لیں گے۔

ترکی افغانستان میں نیٹو کے فوجی مشن کے تحت کابل کے ہوائی اڈے کی سکیورٹی اور اس کو محفوظ بنانے کا ذمہ دار تھا۔اس کے فوجی گذشتہ دو ہفتوں سے افغانوں اور غیرملکیوں کے انخلا کی کوششوں میں بھی مدد دے رہے ہیں۔دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ وہ کابل کے ہوائی اڈے کو مستقبل میں چلانے سے متعلق امور طے کرنے کی غرض سے علاقائی شراکت داروں کے علاوہ طالبان سے بھی رابطہ قائم کررہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے گذشتہ سوموار کو کہا تھا کہ ایک فعال ریاست، فعال معیشت اور باقی دنیا کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی خواہاں حکومت کو ایک فعال تجارتی ہوائی اڈے کی ضرورت ہوگی۔انھوں نے کہا کہ ہم اسی موضوع پر طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔انھوں نے ہمیں واضح الفاظ میں اشارہ دیا ہے کہ ’’وہ ایک فعال تجارتی ہوائی اڈا رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘