.

خطے میں ایرانی نفوذ کم کرنے کے لیے کئی طریقے استعمال کر رہے ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایوی کوچاوی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام میں تیزی کے بعد اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف "آپریشنل پلان" پر کام تیز کردیا ہے۔

اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق کوچاوی نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام میں پیش رفت نے اسرائیلی فوج کو اپنے آپریشنل منصوبوں میں تیزی لانے کا موقع دیا ہے۔ حال ہی میں منظور شدہ دفاعی بجٹ اسی کے لیے وقف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو بحال کرنے کا ایکشن پلان "خطرناک" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں تہران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے" کے لیے مختلف طریقوں سے کام کر رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کوچاوی کا یہ بیان ایک وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ ایران کے معاملے پربات چیت کے لیے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔

اسرائیلی وزیراعثم نفتالی بینیٹ
اسرائیلی وزیراعثم نفتالی بینیٹ

بینیٹ نے منگل کو واشنگٹن روانگی سے قبل کہا تھا کہ بائیڈن کے ساتھ ان کی گفتگو میں اولین ترجیح تہران ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دورہ امریکا کے دوران کئی اہم امور پر امریکی حکام سے بات چیت کریں گے۔ امریکا کے دورے کے دوران ان کے ایجنڈے کا سب سے بڑا موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ بینیٹ کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام میں مزید پیش رفت کی ہے اور ہمیں اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان آفیر جینڈلمین نے بینیٹ کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے اور اسرائیل کی فوجی برتری کو مضبوط بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جینڈل مین نے بتایا کہ وزیر اعظم اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن ، وزیر خارجہ انٹنی بلنکن اور وزیر دفاع ڈیفنس لائیڈ آسٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

گذشتہ بُدھ کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ صدر جو بائیڈن 26 اگست کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ سے ملاقات کریں گے۔