غزہ، پرتشدد احتجاج پر فوجی کارروائی کریں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں حماس اور دوسرے فلسطینی گروپوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی کال کے بعد اضافی فوجی نفری بھیجنے کے ساتھ اسرائیل نے خبر دار کیا ہے کہ اگر غزہ میں احتجاج نے تشدد کی شکل اختیار کی تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں ہونے والی کسی بھی پرتشدد کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ غزہ میں کسی پرتشدد واقعے سے سرحد پر موجود ہماری فوج کو کوئی نقصان پہنچے۔ دوسری طرف اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی سرحد پر جمع ہونے والی اسرائیلی فوج کی نقل وحرکت کو دکھایا ہے۔

ادھر العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق مشرقی خان یونس میں غزہ کی سرحد کے قریب ہونے والے احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 20 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونےوالا ایک نوجوان کل بدھ کو اسپتال میں دم توڑ گیا۔

کل بدھ کو اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 32 سالہ اسامہ دعیج کی ٹانگ میں گولی لگی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی مظاہرین سرحدی باڑ کے قریب آئے اور باڑ سے دراندازی کی کوشش اور فوجیوں پر گولے داغے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ سرحدی باڑ کے قریب آنے والے فلسطینیوں پر آنسوگیس کی شیلنگ اور براہ راست فائرنگ کی گئی تھی۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 13 سالہ بچے سمیت 41 فلسطینی زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں