.

لبنان میں سیاسی بحران اور حزب اللہ کی میزائل ٹیکنالوجی پر امریکا کی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے امریکا کو اسرائیل کی طرح لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کی گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی پر تشویش ہے۔

صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران العربیہ انگلش کے سوال کے جواب میں کہا "ہمارے ]اسرائیل اور امریکا کے] مشترکہ خدشات، سکیورٹی خدشات اور لبنان میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال ضروری ہے۔ یقینا اسرائیلی حکومت حزب اللہ کی گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی پر تشویش رکھتی ہے اور ہم ان کی تشویش کی تائید کرتے ہیں۔"

امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ "امریکا اور اسرائیل لبنان میں حکومت کی تشکیل میں ناکامی کے سبب صورتحال بگڑنے کی صورت میں ریاست کے ناکام ہونے کے امکان پر بھی بات چیت کریں گے۔"

لبنان میں گزشتہ سال ہونے والے بیروت بندرگاہ دھماکے کے بعد حسن دیاب کے مستعفی ہونے کے بعد سے کوئی بھی سیاسی جماعت مرکزی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

لبنان کا سیاسی و معاشی بحران

لبنان میں سیاسی بحران کی وجہ سے غربت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ادویات اور تیل کی کمی کی وجہ سے پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی مقامی کرنسی 90 فی صد تک گر چکی ہے جو کہ معیشت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

بین الاقوامی برادری نے لبنان کو معاشی امداد کی پیشکش کی ہے مگر اس کے لئے شرائط میں سب سے اولین شرط نئی حکومت کا قیام اور کرپشن اور عوامی فنڈز کے ضیاع کے خلاف اصلاحات رکھی گئی ہے۔

لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر متنازعہ علاقے میں موجود گیس کے ذخائر لبنان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کا ایک راستہ ہیں مگر کسی مرکزی حکومت کی غیر موجودگی میں ایسا کرنا ممکن نہیں۔

امریکی حکومت نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان موجود اس تنازع کو حل کرنے کے لئے کئی دہائیوں سے کوششیں جاری رکھی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے پچھلے سال اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر میں لبنان اور اسرائیل کے ذمہ داران کے درمیان ملاقات کا انعقاد کروایا تھا جس کے نتیجے میں کسی حل کی امید پیدا ہوئی تھی مگر اس کے بعد سے مذاکرات کا سلسلہ رک گیا ہے۔

امریکا نے اب ایک بار پھر سے اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو اپنی مشاورت دیں گے تاکہ اس مسئلے کا حل ممکن ہو سکے۔"