.
افغانستان وطالبان

کابل ائیرپورٹ پرخودکش دھماکوں میں ترک فوجیوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا:وزارتِ دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر دوخودکش بم دھماکوں میں اس کے فوجیوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

وزارتِ دفاع نے ٹویٹر پرجاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ’’کابل کے ہوائی اڈے کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں۔ان میں ہمارے یونٹوں کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘‘

جمعرات کو دوحملہ آور بمباروں نے کابل ائیرپورٹ کے ایک بیرونی دروازے اور ایک ہوٹل کے نزدیک جمع افغانوں کے ایک جم غفیر میں خود کو دھماکوں سے اڑایا تھا۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان خودکش بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔طالبان کے ترجمان سہیل شاہین دہشت گردی کے ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اوران میں 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کابل پر15 اگست کو طالبان کے کنٹرول کے بعد سے روزانہ ہزاروں افغان شہری اور غیرملکی بیرون ملک جانے کے لیے حامدکرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا رُخ کررہے ہیں،انھیں وہاں سے امریکا کے فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں یا کمرشل پروازوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جارہا ہے۔

ترکی نے قبل ازیں کابل سے اپنے فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔ترک فوجی کابل سے اپنے ہم وطنوں ، سرکاری اہلکاروں اور فوجیوں کے انخلا کے لیے ہوائی اڈے پر کام کررہے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق افغانستان سے انخلا کے بعد آنے والا فوجیوں کا پہلا دستہ جمعرات کو دارالحکومت انقرہ میں پہنچ گیا ہے۔