.
افغانستان وطالبان

کابل:بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہربم دھماکے،60 افراد ہلاک،150 سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہرجمعرات کی شب ایک اور تباہ کن بم دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔اس سے پہلے دوخودکش بم دھماکوں اور مسلح افراد کی فائرنگ سے 60 افراد ہلاک اور150 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان کے بین الاقوامی ترجمان سہیل شاہین نے بتایا ہے کہ ائیرپورٹ کے امریکی فوج کے زیرانتظام حصے میں لوگوں کے ہجوم میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔انھوں نے ان میں 13 افراد کی ہلاکت اور 52 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ہم اس بھیانک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان حملوں میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

طالبان کے عمومی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بم دھماکوں میں 13 سے 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی جبکہ کابل میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 60 ہوگئی ہے اور ڈیڑھ سو سے زیادہ افرادزخمی ہیں۔ان میں کم سے کم 50 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے،اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

کابل میں رات کے وقت کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد اور امریکی فوج کے ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اندر امریکی فوج نے اپنا سامان تباہ کرنے کے لیے دھماکے کیے ہیں،اس لیے کابل کے شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے قبل ازیں ہوائی اڈے کے ایک گیٹ کے باہردھماکے کی تصدیق کی تھی۔پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ دھماکا کابل ائیرپورٹ کے باہرہوا ہے۔اس کے تھوڑی دیرکے بعد ہوائی اڈے سے ملحقہ بیرن ہوٹل کے باہردوسرا دھماکا ہوا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ اس خودکش حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔بعد میں امریکا کی مرکزی کمان نے بم حملوں میں بارہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔واضح رہے کہ کابل ائیرپورٹ کادہشت گردوں کے حملے کی زدمیں آنے والا حصہ امریکی فوج کے سکیورٹی کنٹرول میں ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوائی اڈے کے ایک بیرونی دروازے کے باہر واقع سیویج کینال کے اطراف بیرون ملک جانے کے خواہاں افغانوں کی بڑی تعداداپنی سفری دستاویزات کی جانچ پرتال کے بعد جمع تھی،ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔اس دوران میں ایک حملہ آور بمبار نے لوگوں کے ہجوم میں خود کو دھماکے سے اڑادیا اورایک اور حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

فرانسیسی حکام نے کابل کے حامد کرزئی ائیرپورٹ پر ایک بم دھماکے کی تصدیق کی ہے اور لوگوں سے فوری طور پرائیرپورٹ اور اس کے آس پاس سے واپس جانے کی اپیل کی ہے۔امریکی سفارت خانے نے بھی افغانوں اور غیرملکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کی حدود سے دور چلے جائیں۔

ایک امریکی عہدہ دار نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک وزخمی ہوئے ہیں لیکن فوری طورپر یہ کہنا مشکل ہے کہ کل کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا تعلق کس ملک سے ہے۔البتہ انھوں نے دھماکے میں بارہ امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

العربیہ نے ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے بتایا تھا کہ پہلادھماکا خودکش حملے کا نتیجہ ہے،سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی بعض تصاویر اور ویڈیوز میں خون میں لت پت متعدد افراد کو دیکھا جاسکتا ہےاور ایمبولینس گاڑیاں کے ذریعے ہوائی اڈے سے زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔کابل کے ایک اسپتال کے انچارج ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے پاس تیس سے زیادہ زخمیوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ان میں سے چھے شدید زخمی دم توڑ گئے ہیں۔

امریکا اور برطانیہ کے انٹیلی جنس ذرائع نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ کابل کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر داعش کے حملے کا خدشہ ہے۔افغانستان میں داعش کے سربراہ خالدعمر کی ہلاکت کےبعداس خدشے کا اظہارکیا جارہا تھاکہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیرون ملک جانے کے خواہاں ہزاروں افغان اور غیرملکی موجود ہوتے ہیں،انھیں دہشت گرد کسی بھی وقت اپنے حملے میں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

طالبان کے 15 اگست کو کابل پرکنٹرول کے بعد ہوائی اڈے پردہشت گردی کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے ہوائی اڈے پر اس دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور بم دھماکوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔