.

اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر میں ایران کے معاملے پرآج اہم ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقات وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ ملاقات افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے خونی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظرموخر کی گئی تھی۔ دونوں رہ نما آج ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں ایران کا جوہری پروگرام اہم موضوع ہوگا۔ اس کے علاوہ نفتالی بینیٹ امریکا کی طرف سے اسرائیل کےلیے امداد پر بھی با کریں گے۔

شیڈول کے مطابق بائیڈن اور بینیٹ کے درمیان ملاقات جمعرات کو ہونا تھی جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور اسرائیل کے لیے امریکی مدد پر غور کرنا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوطرفہ ملاقات جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

انچاس سالہ بینیٹ ایک نظریاتی طور پر منقسم سیاسی اتحاد کے سربراہ کے طور پر جون میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد واشنگٹن کا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ان کی پہلی براہ راست ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہ نماؤں کو ایک دوسرے کو جاننے میں مدد ملے گی۔

اوول آفس میں حکام کے درمیان میٹنگ کے اختتام پر کسی پریس کانفرنس کی توقع نہیں ہے۔

بینیٹ کو بنیامین نیتن یاہو کی جگہ ایک نظریاتی طور پر منقسم اتحاد کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا جس میں ان کی پارٹی کے پاس صرف چند نشستیں ہیں۔

بینیٹ نے کہا ہےکہ امریکا اور اسرائیل میں نئی حکومتیں ہیں۔ میں اپنے ساتھ یروشلم سے ایک نئی روح اور اسرائیل کی طرف سے شراکت اور رابطے کے لیے ایک نیا پیغام لایا ہوں۔

واشنگٹن روانگی سے پہلے بینیٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بائیڈن اسرائیل کا ایک سچا اور پرانا دوست ہے۔

اسرائیل میں امریکا کے سابق سفیر ڈین کرٹزرکا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بینیٹ کا دورہ نیتن یاہو کے 12 سالہ دور حکومت کے بعد امریکا ۔اسرائیل تعلقات کو ایک نئی زندگی دے گا۔

ڈین کرٹزر نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیتن یاہو کو یقین تھا کہ وہ صدر سے زیادہ جانتے ہیں کہ وہ امریکا کو ان کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔

اس وقت ایران اور اس کا ایٹمی پروگرام امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات کا اہم موضوع ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے ویانا میں بات چیت جاری ہے۔ اس میں امریکا کی بالواسطہ شرکت کررہا ہے۔ جس کا مقصد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سے دستبردار ہونے کے بعد ایرانی جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔