.

کابل حملہ کے ذمہ داروں کا علم ہے، انہیں سخت سزا دیں گے: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہلا دینے والے خونی حملے جس میں امریکی فوجیوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس سروسز کو کابل میں اسی طرح کے حملے کا خدشہ تھا۔

بائیڈن نے اس حملے کے بعد وائٹ ہاؤس سے کیے گئے اپنے خطاب میں تصدیق کی کہ کابل میں حملے داعش نے کیے ہیں۔ خود داعش نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جوبائیڈن نے امریکی فوجیوں کی تعریف کی جنہوں نے کابل حملوں میں اپنی جانیں قربان کیں اور اس حملے کے مجرموں کا پیچھا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث افراد کو سخت سزا دیں ے اور انہیں ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ امریکی افواج افغانستان میں طاقت ، مضبوطی اور درستگی کے ساتھ دہشت گردوں کو جواب دیں گی۔

بائیڈن نےکہا کہ افغانستان میں زمینی صورت حال اب بھی بدل رہی ہے "خراسان آرگنائزیشن" (جو کہ افغانستان میں داعش کی شاخ ہے) نے افغانستان میں امریکیوں کے خلاف کئی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔

بائیڈن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں معاف نہیں کریں گے۔ ہم کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث افراد کا پیچھا کریں گے۔ میں نے درخواست کی ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان پر حملے کے منصوبے تیار کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے فوجی رہ نماؤں کو کابل میں موجود ہماری فوج کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

بائیڈن نے "ضرورت پڑنے پر کابل میں اضافی فوج بھیجنے کا بھی عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکیوں کو بچائیں گے اور اپنے افغان اتحادیوں کو نکالیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے افغان جنگ کے خاتمے کے بہترین طریقے پر فوجی کمانڈروں اور پینٹاگان سے مشاورت کی ہے۔ کسی ایسے شخص کی حمایت نہیں کی جو "بگرام کو انخلاء کے لیے استعمال کر سکے"۔

اپنے ایک سابقہ بیان میں صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ داعش کی بیخ کنی طالبان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے طالبان کو مطلع کیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے آس پاس میں سیکیورٹی چیکنگ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس معلومات ہیں کہ کابل ایئرپورٹ حملے کے پیچھے کون ہے؟ لیکن ہمیں یقین نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابل ایئر پورٹ حملے میں طالبان اور داعش کے درمیان تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

خیال رہےکہ جمعرات کی شام افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر ہونے والے ایک خوفناک خود کش حملے میں امریکی فوجیوں اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔