.

کابل ہوائی اڈے پر مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر آسٹریلیا نے انخلا کا آپریشن روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کہا ہے کہ جنگجو تنظیم داعش کی جانب سے کابل ایئرپورٹ پر مزید حملوں کا خدشہ موجود ہے، جس کے بعد آسٹریلیا نے کابل ایئرپورٹ پر دھماکوں کے بعد انخلا کا جاری آپریشن روک دیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے سے چند گھنٹے قبل ہی آسٹریلوی فوج کے اہلکار وہاں سے انخلا کر چکے تھے اور موجودہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر افغانستان سے شہریوں کے انخلا کا عمل مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے کابل سے اب تک 4100 افراد کو نکالا ہے جن میں آسٹریلوی شہریوں سمیت افغان باشندے بھی شامل ہیں جب کہ مزید 800 افراد آسٹریلیاں پہنچ رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ میرس پین نے آسٹریلوی شہریوں اور ان افراد پر زور دیا ہے جن کے پاس آسٹریلیا کا ویزہ ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے دور رہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد نیٹو کا رکن ہے اور افغان جنگ کے دوران اس کے 39 ہزار سے زیادہ اہلکاروں نے خدمات انجام دیں۔ لگ بھگ 20 برس تک جاری رہنے والی اس جنگ کے دوران آسٹریلیا کے 41 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔