.
افغانستان وطالبان

امریکی فوج کے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انخلا کا آغاز: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان میجرجنرل ہانک ٹیلرنے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکی فوجیوں نے افغان دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انخلا شروع کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اب جب کابل میں فوجی مشن کے خاتمے کاآغاز ہوا چاہتا ہےتو ہزاروں فوجی اس ناقابل یقین حد تک اہم مشن کی تکمیل کے لیے دنیا بھراورامریکا کے اندر کام کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں اورخطرے سے دوچار افغانوں کو کابل سے نکالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میجر جنرل ٹیلر نے بتایا کہ درحقیقت کابل کے ہوائی اڈے پر قریباً 1400 افراد کی آج پروازوں کی جانچ پرتال کی گئی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ماہ کے اوائل میں ہزاروں فوجی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھیجے تھے تاکہ 15 اگست کو طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد خطرے سے دوچار امریکی شہریوں اور اتحادیوں کووہاں سے نکالنے میں مدد دی جا سکے۔

امریکااور اس کے اتحادیوں کے افغانستان سے مکمل انخلا کی حتمی تاریخ 31 اگست مقرر ہے اور اس آخری تاریخ سے پہلے ہی امریکی فوجیوں ،ان کے اتحادی یا شریک کار رہنے والے افغانوں اور غیرملکیوں کو جنگ زدہ ملک سے نکالنے کا عمل جاری ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے جمعہ کو بتایا تھا کہ 14 اگست سے امریکا نے افغانستان سے قریباً ایک لاکھ پانچ ہزارافراد کےانخلا میں سہولت فراہم کی ہے۔ جولائی کے آخر سے اب تک امریکا نے قریباً 110,600 افراد کو دوسری جگہوں پرمنتقل کیا ہے۔

پرائس نے مزید کہا کہ اس وقت قریباً 500 امریکی شہری افغانستان میں موجود ہیں۔ان کے ساتھ ہم کام کررہے ہیں۔ وہ جنگ زدہ ملک سے واپس امریکا سے جانا چاہتے ہیں۔ان کے ساتھ ہم براہ راست بات چیت کررہے ہیں تاکہ ان کے انخلا کے عمل کوآسان بنایاجاسکے۔