.

طالبان کا کابل ہوائی اڈے کے ایک حصے پر قبضے کا دعویٰ، پینٹاگان کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعہ کو کابل ہوائی اڈے کے کچھ حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے لیکن واشنگٹن نے طالبان کے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔

طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے جمعہ کو ٹوئٹر پر لکھا کہ "آج امریکیوں نے کابل ایئر پورٹ کے ملٹری سیکشن میں تین اہم مقامات خالی کر دیے ہیں اور وہ مقامات اب امارت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں"۔

کریمی نے مزید کہا کہ "اب ایک بہت چھوٹا حصہ (ہوائی اڈے کا) امریکیوں کے پاس رہتا ہے۔"

تاہم امریکی محکمہ دفاع "پینٹاگان" نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "طالبان کابل ہوائی اڈے کے کسی بھی حصے کو کنٹرول نہیں کرتے اور وہاں کی کسی بھی کارروائی کا حصہ نہیں ہیں۔"

طالبان اہلکار کابل ائرپورٹ کے قریب تعینات ہیں۔
طالبان اہلکار کابل ائرپورٹ کے قریب تعینات ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے جمعہ کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ طالبان کابل ہوائی اڈے، اس کے دروازوں اور اس کے ملٹری سیکشن کے کسی حصے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ مکمل طور پر امریکی فوج کے پاس کنٹرول میں ہے۔

اسی تناظر میں ایک اور طالبان عہدیدار نے کہا کہ جیسے ہی امریکی چلے جائیں گے ہم ان کے اشارے کا انتظار کریں گے اور پھر ہم (کابل ہوائی اڈے کا کنٹرول) سنبھال لیں گے۔ یہ ہفتے کے اندر ہو سکتا ہے۔

افغان باشندے کابل ائرپورٹ کے باہر اس امید پر جمع ہیں کہ انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت مل جائے گی
افغان باشندے کابل ائرپورٹ کے باہر اس امید پر جمع ہیں کہ انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت مل جائے گی

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیم کابل کے ہوائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ جب امریکی چلے جائیں گے تو ہم خود اس کاکنٹرول سنھبالیں گے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہےجب دوسری طرف امریکا نے 31 اگست تک افغانستان سے فوج واپس بلانے اور مکمل انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔ طالبان نے فی الحال اس ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنے کا کہا ہے۔