.

امریکیوں نے کابل میں سی آئی اے کا آخری ٹھکانا بھی تباہ کر دیا: رپورٹ

’’ایگل بیس کی تباہی کا مقصد وہاں موجود حساس معلومات اور آلات کو طالبان کے ہاتھ لگنے سے روکنا تھا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کابل پر طالبان کے کنڑول کے بعد وہاں موجود امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے زیر استعمال آخری ’’ایگل بیس‘‘ پر موجود ساز وسامان کو تباہ کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے کثیر الاشاعت اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ کابل ہوائی اڈے پر داعش کی جانب سے بم دھماکے کے بعد ایک دوسرا دھماکہ سنائی دیا گیا۔

طالبان ترجمان کے ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کہ دوسرا دھماکہ امریکیوں کی جانب سے ایگل بیس پرموجود ساز وسامان کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

امریکی حکام کی جانب سے نیویارک ٹائمز کو دی جانے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ کابل کی ایگل بیس کو تباہ کرنے کی غرض سے کیا جانا والا دھماکہ کنڑول نوعیت کا تھا اس کا مقصد سی آئی اے کی بیس پر موجود خفیہ معلومات اور حساس آلات کو طالبان کے ہاتھ لگنے سے بچانا تھا۔ ایگل بیس کو افغانستان کی بیس سالہ جنگ کے دوران کاؤنٹر ٹیررازم تربیتی اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سی آئی اے کے ساتھ کام کرنے والے ایک کنڑیکٹر نے نیو یارک ٹائم کو بتایا کہ بیس کو تباہ کرنا آسان کام نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بیس پر موجود دستاویزات جلانے، ہارڈ ڈرائیوز کو کچلنے اور حساس آلات کو ناکارہ بنانا اس لیے ضروری تھا کہ یہ چیزیں طالبان کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ ایگل بیس سفارت خانے کے ماڈل پر کام نہیں کرتی، اس لیے وہاں ایسی چیزوں کو تباہ کرنا آسان امر نہیں تھا۔

طالبان نے پہلے ہی جنگی ساز وسامان کے بڑے ذخیرے پر قبضہ کر لیا ہے جو امریکا نے افغان حکومت کو دیا تھا۔

طالبان نے جدید آتشیں اسلحہ، کمیونیکیشن گیئرز اور امریکی فوج کے زیر استعمال ہمویز سمیت 2000 سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں اور 40 تک ہوائی جہاز بھی قبضے میں لیے ہیں جن میں ممکنہ طور پر UH-60 بلیک ہاکس، اسکاؤٹ اٹیک ہیلی کاپٹر اور اسکین ایگل فوجی ڈرونز بھی شامل ہیں۔

کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ طالبان نے امریکی فوج کے بائیو میٹرک شناختی آلات بھی قبضے میں لیے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ طالبان کو ان افغانوں کی شناخت مل سکتی ہے جو امریکا کے لیے کام کرتے تھے۔