.

یواے ای:قومی ادارہ برائے انسانی حقوق کے قیام کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید آل نہیان نے پیر کو قومی ادارہ برائے انسانی حقوق (این ایچ آر آئی) کے قیام کے لیے حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

یواے ای کے وفاقی قانون نمبر 12 کی دفعہ 2 مجریہ 2021ء کے مطابق انسانی حقوق کا قومی ادارہ اپنی ہیئت ترکیبی میں آزاد اور خودمختار ہوگا۔اس کا صدردفترابوظبی میں قائم کیا جائے گا اور وہ یو اے ای میں شامل دوسری امارتوں میں بھی اپنے ذیلی دفاترکھول سکتا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ ایک میکانزم کے ذریعے یقینی بنانا ہے اور قومی اداروں میں انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دیناہے۔اس قانون کی تیاری میں متحدہ عرب امارات نے دوسرے ممالک میں اسی طرح کے اداروں کے قیام کے لیے قانون سازی اور ان کے تجربات سے استفادہ کیا ہے۔

یواے ای نے اس ضمن میں بین الاقوامی تنظیموں سے بھی مشاورت طلب کی تھی۔ان میں سب سے قابل ذکر جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کے ہائی کمشنرکا دفتر ہے۔اس نے این ایچ آر آئی کے قانون کا مسودہ تیار کرنے میں قانونی اورتکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔

آزاد اور خودمختار قانونی ادارہ

قانون کے دفعہ 3 میں کہا گیا ہےکہ یہ ایک آزاد قانونی ادارہ ہوگا۔اس کو اپنے کاموں، سرگرمیوں اور وسائل و صلاحیتوں کے استعمال میں مالی اور انتظامی خود مختاری حاصل ہوگی۔

آرٹیکل 4 کے مطابق این ایچ آر آئی کا مقصد متحدہ عرب امارات کے آئین، قوانین اورملک میں نافذ قانون سازی کے علاوہ متعلقہ بین الاقوامی کنونشنوں کی دفعات پر عمل کرتے ہوئے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہے۔

قانون کے آرٹیکل 5 کے مطابق اپنے مقاصد کے حصول کے لیے این ایچ آر آئی متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک قومی لائحہ عمل کی تیارکرے گا اوراس کے نفاذ، انسانی حقوق کے کلچرکو فروغ دینے اورسیمی ناروں کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک میکانزم تجویزکرے گا۔ کانفرنسوں اورانسانی حقوق پر پینل مباحثوں کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے طریقوں کے بارے میں متعلقہ حکام کو تجاویز، سفارشات اور مشورے پیش کیے جائیں گے۔

ادارہ متعلقہ حکام اوراداروں کو قومی قانون سازی سے متعلق بھی تجاویزپیش کرے گا کہ ملکی قوانین انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اورکنونشنوں سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔نیزانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کیسے سراغ لگایا جاسکتا ہےاوران کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اورعلاقائی فورموں میں شرکت بھی ادارے کا مینڈیٹ ہوگی۔