.
افغانستان وطالبان

اسامہ بن لادن کے خصوصی سیکیورٹی گارڈ کی دوبارہ افغانستان آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں القاعدہ کے ایک رکن محمد امین الحق کو جنوب مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ان کے آبائی شہر میں واپس آئے دیکھا جا سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ محمد امین الحق مشرقی افغانستان کے تورا بورا پہاڑوں میں القاعدہ کے سابق رہ نما اسامہ بن لادن کی موجودگی کے دوران ان کے محافظ دستے میں شامل تھے۔

پاکستان نے 2008 میں امین الحق کو گرفتار کیا اوراس کے بعد سنہ 2011ٗ عدم ثبوت کی بنیاد رہا کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ عرصے کے دوران تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے جلومیں افغانستان میں دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو افغانستان میں امریکی موجودگی کے بیس سال میں بھی نہیں دیکھے گئے۔ اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے دوبارہ ظہور کے قوی امکانات ہیں جس نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملے کیے تھے۔

اس تناظرمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں انسداد دہشت گردی کے عہدیدار کریس کوسٹا نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ امریکی افواج کے تیزی سے انخلا اور افغانستان میں طالبان کے عروج کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ القاعدہ کے پاس ایک موقع ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے گی۔

بائیڈن انتظامیہ کے اندر شکوک و شبہات

چھ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے چند روز قبل رایٹرزکو بتایا تھا کہ امریکی فورسز کی عدم موجودگی کے بارے میں افغانستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کی واپسی کو روکنے کی واشنگٹن کی صلاحیت کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں شکوک و شبہات بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ قابل اعتماد شراکت داروں کی روانگی، شدت پسندوں کی جیلوں سے رہائی اور طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد خطرہ ہے کہ القاعدہ افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ سرگرم ہوجائے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 20 سال بعد افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے جبکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تنظیم مستقبل قریب میں بھی امریکا کے اندر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ جون میں جاری کی گئی ایک رپورٹ نے تصدیق کی کہ القاعدہ کی سینیر قیادت اب بھی سیکڑوں مسلح عناصر کے ساتھ افغانستان کے اندر موجود ہے۔