.

اسرائیل میں سابق سفیرایران کے لیے امریکا کا خصوصی مشیر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈینیل شاپیرو کو اسرائیل میں امریکی صدر جوبائیڈن کا نیا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

"ایکسیوز" ویب سائٹ کے مطابق شاپیرو کی رابرٹ مالے کے سیکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر تعینات کیے جانے کے بعد گذشتہ ہفتے ایران کے بارے میں محکمہ خارجہ کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔

ڈینیل شاپیرواس سے قبل سابق صدر باراک اوباما کے دور میں 2011 میں تل ابیب میں امریکی سفیر مقرر ہوئے تھے اور وہ 2017 کے اوائل تک اس عہدے پر رہے۔

امریکی فارسی زبان کے ریڈیو سٹیشن فردا کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے جب عرب اسرائیل تعلقات پر دوبارہ کام شروع کیا تو ڈینیل شاپیرو کا نام دوہرایا جانے لگا۔

تل ابیب کے ساتھ ہم آہنگی

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی مشیر کے طور پر شاپیرو کے اہم کاموں میں سے ایک اسرائیل میں وزیر اعظم کے دفتر اور خارجہ امور اور دفاع کی وزارتوں کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیں گےتاکہ ایران کے حوالے سے ہم آہنگی کو بڑھایا جاسکے اور دونوں ممالک کے درمیان زیادہ دوستانہ بات چیت کا امکان اور ماحول پیدا کیا جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کےساتھ طے پائےایٹمی معاہدے سے دستبرداری اور صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کے بعد شاپیرو نے زور دیا تھا کہ اگر یہ معاہدہ ٹوٹ گیا تو اچھا ہوگا۔ مذاکرات کے ذریعے بہتر معاہدے تک پہنچنے کے امکانات دستیاب ہیں۔ .

انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا کہ امریکا کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے ایران کے لیے جو بارہ شرائط امریکا نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے لیے رکھی تھیں وہ "ناقابل عمل" تھیں کیونکہ اگر اس پر عمل کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ایران میں حکومت کی بنیاد ہی نہیں۔

اس کے نتیجے میں جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اہم امریکی مذاکرات کار رابرٹ مالے نے چند روز قبل ریڈیو فردا کو بتایا کہ مذاکرات کے چھ ادوار کے ذریعے ہم نے بنیادی پیش رفت حاصل کی ہے لیکن تمام خلاء پُر نہیں کیے گئے۔اگر ایرانی حکومت نے سخت موقف اختیار کیا اس خلا کو پُرکرنا اور مشکل ہوگا۔ ایران کی گذشتہ حکومت میں بھی ایسا نہیں کیا جا سکا۔