.
افغانستان وطالبان

امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد کابل ہوائی اڈے پرطالبان کی ’فاتحانہ پریڈ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرخصوصی فورسز کی وردی میں ملبوس طالبان نے فاتحانہ پریڈ کی ہے اوریوں امریکا کے خلاف دوعشرے پر محیط جنگ میں اپنی فتح کااظہار کیا ہے۔

طالبان کے بعض قائدین نے جنگجوؤں کی معیّت میں ہوائی اڈے پر تباہ شدہ امریکی ہیلی کاپٹروں اور دوسرے فوجی سامان کا معائنہ کیا ہے۔فوجی پریڈ کا معائنہ کرنے کے لیے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور دوسرے حکام بھی رن وے پر موجود تھے۔ترجمان مجاہد بالعموم بہت سنجیدہ نظرآتے ہیں لیکن آج ان کے لبوں پرفتح کی خوشی میں مسکراہٹ دیدنی تھی۔

پریڈ میں شریک طالبان کی اسپیشل فورسز کے یونٹ ’بدری 313‘ کے ارکان نے تصاویر بنوائیں،امریکی رائفلوں کی نمائش کی اور امارت اسلامیہ کا سفید پرچم لہرایا۔

واضح رہے کہ کابل کاحامدکرزئی بین الاقوامی ائیرپورٹ کبھی افغانستان میں سب سے زیادہ محفوظ مقامات میں سے ایک تھا لیکن امریکی فوج اور دیگرغیرملکیوں کے انخلا کے دوران میں اس ہوائی اڈے کے مسافرٹرمینل کو کباڑخانہ بنادیا گیا ہے۔اس کےتمام داخلی راستوں کے قریب گولیوں کے خالی خول فرش پر جگہ جگہ نظر آرہے تھے،گندگی کے ڈھیر اس کے علاوہ تھے۔

طالبان نے منگل کے روز ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر قائم تمام چیک پوائنٹس کوبھی ہٹا دیا ہے۔وہاں تعینات طالبان محافظ انتہائی پُرجوش نظرآرہے تھے اوروہ آنے جانے والے ڈرائیوروں اور مسافروں سے مصافحہ کررہے تھے۔

سابق صدرحامد کرزئی سے موسوم ہوائی اڈے کو چلانا اوروہاں امن وامان کو یقینی بنانا ایک اہم مسئلہ ہے مگرطالبان بار بارکہتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں کسی غیرملکی فوجی کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔

طالبان کی پریڈ کے دوران میں درجنوں طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر خالی کھڑے تھے۔امریکی فوج نے جنگ زدہ ملک سے آخری اڑان بھرنے سے پہلے انھیں اپنی کارروائی میں ناکارہ یا جزوی طور پر تباہ کردیا تھا اور وہ اب وہ استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔

امریکاکے ایک اعلیٰ جنرل نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کے آخری دستے نے روانگی سے پہلے ہوائی اڈے پر متعدد طیاروں اوربکتربند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک راکٹ دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔طیاروں کے کاک پٹ کی کھڑکیاں توڑدی گئی ہیں اور ان کے ٹائروں کو گولیاں ماردی گئی ہیں۔

امریکا کی مسلح افواج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے بتایا کہ طالبان کے ملک پر کنٹرول کے بعد گذشتہ دو ہفتوں کے دوران میں انخلا مکمل کرنے سے قبل امریکی فوجیوں نے 73 طیاروں کو’غیرفوجی‘یا ناکارہ بنا دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پینٹاگون نے 14 اگست کوافغانستان سے فضائی انخلا شروع کرنے سے قبل کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے کے لیے قریباً 6000 فوجیوں کی ایک فورس تشکیل دی تھی۔امریکی فوج اپنے پیچھے 70 کے قریب ایم آر اے پی بکتربند ٹیکٹیکل گاڑیاں چھوڑ گئی ہے۔ان میں سے ایک گاڑی پردس لاکھ ڈالر تک لاگت آتی ہے –اس کے علاوہ اس نے 27 ہموی گاڑیوں کو بھی ناکارہ کردیا ہے۔

امریکی فوج نے اپنی باقیات میں سی۔ریم سسٹم یعنی کاؤنٹر راکٹ،آرٹلری اور مارٹر بھی چھوڑا تھاجو ہوائی اڈے کو راکٹ حملوں سے بچانے کے لیےاستعمال کیا جاتا تھا۔اس نظام نے پیر کے روزداعش کے پانچ راکٹوں کو ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے سے روکنے میں مدد دی تھی لیکن امریکیوں نے اس نظام کوبھی مفلوج اور بے کار کردیا ہے۔