.

تُرکی پر شمالی شام کے نخسلتان کو صحرا میں بدلنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سبز باغ جن میں زیادہ تر زیتون کے باغات مقامی باشندوں کے مطابق کسی دور میں جنت سے کم نہ تھےمگر آج وہ بنجر ہیں اور صحرا میں بدل چکے ہیں۔

شام میں سرسبزعلاقوں کو صحرا میں بدلنے کا الزام ترکی پرعاید کیا جاتا ہے۔ مگر ترکی اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔

شام میں ایک مقامی باشندے خالد خمیس نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے شمالی شام میں ان کے باغ میں فرات کے پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں درخت سوکھ گئے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ انہیں اپنے گھر کے لیے پانی حاصل کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے خالد الخمیس نے شکایت کے الفاظ میں کہا کہ یہ اس طرح ہے جیسے ہم ایک ریگستان میں رہ رہے ہیں۔

تباہی کا انتباہ

ماہرین اور انسان دوست تنظیموں نے شمالی اور شمال مشرقی شام میں ایک تباہی کے بارے میں بار بار خبردار کیا۔ یہ علاقے دریائے فرات کے اطراف میں پائے جاتے ہیں۔ پانی کی قلت ڈیموں کے کام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

رواں سال جنوری کے بعد سے اس میں پانی کی سطح میں کمی، لاکھوں باشندوں کے لیے پانی اور بجلی میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس طرح ایک دہائی سے جاری تنازع اور شدید معاشی تباہی کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

خشک سالی اور کرد خود مختار انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں بہت سے لوگ ترکی پر پانی روکنے اوراسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

ترکی کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ

سنہ1987میں شام نے ترکی کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں انقرہ نے 500 کیوبک میٹر پانی سالانہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ مقدار پچھلے مہینوں کے دوران نصف سے زیادہ کم ہوچکی ہے۔ بعض اوقات 200 مکعب تک پہنچ جاتی ہے۔

فرات کے دو اہم ڈیم حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں تشرین ڈیم اور طبقہ ڈیم ہیں جہاں رقہ کے مشرقی دیہی علاقوں میں اسد جھیل واقع ہے۔ یہ ڈیم شمال مشرقی شام کی 90 فیصد بجلی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس جھیل سے واٹر سپلائی کی ضرورت بھی پوری کررہی ہے۔آج پانی کی گرتی ہوئی سطح اس کے لیے خطرہ ہے۔

'تاریخی اور خوفناک کمی'

13 سال قبل تشرین ڈیم کے ڈائریکٹر حمود الحمادیین نے پانی کی سطح میں ’’ تاریخی اور خوفناک کمی ‘‘ کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ 1999 میں ڈیم کی تعمیر کے بعد سے اتنی کمی نہیں دیکھی گئی۔

پانی کی کمی اسی طرح جاری رہی تو یہ "ڈیڈ لیول" تک پہنچ سکتا ہے۔

الحمادیین کا کہنا ہے کہ پانی کی کم سطح آلودگی کی شرح کو بڑھانے اور مچھلیوں کی ذخیرےکو خطرے میں ڈالنے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک انسانی اور ماحولیاتی تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔

طبقہ ڈیم سے جھیل الاسد میں پانی کی سطح میں بھی تقریبا پانچ میٹر کی کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ ڈیڈ لیول کے قریب بھی جا رہا ہے۔

پورے شمال مشرقی شام میں بجلی کی پیداوار میں ستر فیصد کمی آئی ہے کیونکہ شمال مشرقی شام اور لات درویش میں انرجی اتھارٹی کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ تشرین اور طبقہ ڈیم ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں۔

انقرہ کا الزام

خود مختار انتظامیہ نے انقرہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ دریائے فرات کے شام میں بہاؤ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ترکی کے ایک سفارتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے ملک نے سیاسی یا کسی اور وجوہات کی بنا پر پانی کے بہاؤ کی شرح میں کبھی کمی نہیں کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا علاقہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ترکی میں رواں سال 30 سال میں بارش کی کم ترین سطح ریکارڈ کی گئی۔