.

تُرک عالم دین کے ’کرونا‘ ویکسین کوحرام قرار دینے کے فتوے پربحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کےایک عالم دین نے کچھ دن پہلے ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ’کرونا‘ وائرس کی ویکسین کو حرام قرار دیا تھا۔ تقریبا دو سال قبل کرونا کی وبا نے ترکی سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تُرک عالم دین جس کا پورا نام ظاہرنہیں کیا گیا کا تعلق جنوبی ترکی کے شہر ڈینزلی سے ہے جہاں وہ جامع مسجد کے امام ہیں۔ انہوں نے ایک خطبے نمازیوں پر زور دیا کہ وہ اینٹی کورونا ویکسینوں کا بائیکاٹ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وبا کے لیےاستعمال ہونے والی تمام ویکسینیں "حرام" ہیں اور لوگوں کو ان کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔

تُرک میڈیا نے رپورٹ کیا کہ الخطیب کو "و ت" کے مخفف سے موسوم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس محلے کے باشندوں پر زور دیا وہ ہر قسم کی اینٹی وائرس ویکسین کا بائیکاٹ کریں۔ اس پس منظر میں محکمہ اوقاف نے علامہ صاحب کو معطل کردیا۔ سیکیورٹی حکام نے اس سے تفتیش شروع کی۔

وبا کے ظہور کے بعد سے دنیا میں کوویڈ 19 کی وجہ سے چار کروڑ5 لاکھ سے زیادہ اموات سرکاری طور پر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ دسمبر 2019 میں چین میں ظاہر ہونے کے بعد سے وبا سے اموات کی کل تعداد 4،500،620 تک پہنچ گئی ہے۔

استنبول یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ کے سابق پروفیسرعبدالعزیز بیدیر نے ترک مبلغ کے فتوے پر تبصرہ کیا۔"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو مختصر بیانات میں انہوں نے کہا کہ ’ویکسین حرام‘ ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔

ترک محکمہ اوقاف صرف مبلغ کو اپنے کام سے روکنے سے مطمئن نہیں تھا جس کے بعد بلکہ معاملہ اس شہرکے مفتی تک پہنچ گیا جس میں وہ کام کر رہا تھا۔

ڈینزلی کے مفتی محمد اشیک نے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ اینٹی کرونا وائرس ویکسین حاصل کی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ ویکسین حاصل کریں تاکہ ان کے درمیان وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیانات میں یہ بھی کہا کہ ویکسینیشن ایک مذہبی اور شہری فریضہ ہے۔اس کی رسائی کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔

ترک عالم دین کا فتویٰ ایک ایسے وقت میں آیا جب تُرکی میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔