افغانستان وطالبان

طالبان ایرانی طرز حکومت اپناتے ہوئے سپریم لیڈر چنیں گے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد طرزحکومت پر چہ میگوئیاں جاری ہیں مگر ایک امریکی ٹی وی کے مطابق طالبان ایرانی حکومت کی طرح اپنے گروپ کے سربراہ ہبت اللہ اخوانزادہ کو سپریم لیڈر نامزد کر یں گے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں صدر اور کابینہ تو موجود ہوتے ہیں مگر سپریم لیڈر بطور مذہبی رہنما تمام اختیارات اپنے پاس رکھتے ہیں اور وہ صدر کے احکامات کو بھی ناقص العمل قرار دے سکتے ہیں۔ سپریم لیڈر ہی تمام فیصلوں میں سب سے طاقت ور آواز رکھتے ہیں۔

سی این این نیوز 18 ٹی وی چینل کے مطابق "طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوانزادہ سپریم کونسل کی سربراہی کریں گے اور یہ سپریم کونسل طالبان اور ان کے اتحادیوں پر مشتمل ہوگی۔ ملا ہبت اللہ کی مکانیت کو انتہائی پوشیدہ رکھا جاتا ہے اور وہ عوامی مقامات سے دور رہتے ہیں۔"

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ملا ہبت اللہ قندھار سے ہی اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

طالبان کا گروپ 1990 میں قندھار میں ہی قائم کیا گیا تھا اور یہ ہمیشہ سے قندھار میں اثر ورسوخ رکھتا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا ہبت اللہ اخوانزادہ افغانستان میں ہی موجود ہیں۔ "اخوانزادہ قندھار میں ہیں۔ وہ شروع سے وہیں مقیم ہیں۔"

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید بتایا تھا کہ طالبان ایک ہفتے کے دوران مکمل کابینہ کا اعلان کردیں گے اور اس میں وزراء کے علاوہ سربراہان حکومت بھی شامل ہونگے۔

مقبول خبریں اہم خبریں