.
افغانستان وطالبان

قطری طیارے میں تکنیکی ٹیم کی ہوائی اڈا چلانے کے امور پربات چیت کے لیے کابل آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر سے ایک طیارہ تکنیکی ٹیم کو لے کر بدھ کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراُترگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطرسے آنے والی یہ ٹیکنیکل ٹیم افغانستان پرطالبان کے قبضے کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرآپریشنل سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق امورپر تبادلہ خیال کرے گی۔

طالبان کا قطر یا کسی اور ملک کے ساتھ ہوائی اڈوں کو چلانے کے لیے ابھی کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے۔طالبان نے ترکی سے بھی کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا چلانے کے لیے تکنیکی معاونت مہیا کرنے کی درخواست کی ہے۔

تاہم اس تکنیکی معاونت کی فراہمی کے حوالے سے فریقین میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے لیکن قطر کی تکنیکی ٹیم نے دوسرے فریق (طالبان) کے ایماء پراس ضمن میں بات چیت کا آغاز کیا ہے اور ہوائی اڈے کی سکیورٹی اور آپریشنل سرگرمیوں سے متعلق امور پر غور کیا جارہاہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس بات چیت کا مقصد افغانستان کے لیے انسانی امداد لے کرآنے والی بین الاقوامی پروازوں کو بحال کرنا ہے۔اس کے علاوہ مسافروں کی آزادانہ نقل وحرکت اور انخلا کی کوششوں کی بحالی بھی ہے۔

منگل تک افغانستان سے ایک لاکھ 23 ہزار سے زیادہ غیر ملکی فوجی اور شہری اورافغان ہنگامی فضائی آپریشن کے بعد بیرون ملک جاچکے تھے۔اس وقت افغانوں کی کثیرتعداد اپنے جنگ زدہ ملک سے انخلا چاہتی ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کی منتظر ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حالت خراب ہوچکی ہے اوراس کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچا ناکارہ یا تباہ ہوچکا ہے۔امریکی فوجی اپنے حتمی انخلا سے قبل ہوائی اڈے کا فضائی دفاعی نظام ناکارہ بنا گئے ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے اس کے آپریشنل سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور ہوائی اڈے کے رن وے پر کھڑے اپنے متعدد طیارے اور ہیلی کاپٹروں کو بھی جزوی یا مکمل تباہ کرگئے ہیں اور وہ پروازوں کے قابل نہیں رہے ہیں۔امریکی فوج کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ یہ طیارے اور ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

دوعشرے پر محیط جنگ کے بعد منگل کوعلی الصباح آخری امریکی فوجی کابل سے روانہ ہوگیا تھا۔غیرملکی بالخصوص امریکیوں کے انخلا پر طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ روز جشن منایا اور مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی تھیں۔انھوں نے کابل کے ہوائی اڈے پر فاتحانہ پریڈ بھی کی تھی۔

واضح رہے کہ خلیجی ریاست قطرہی نے حالیہ برسوں میں طالبان اورامریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی اورافغانستان چھوڑکر جانے والے قریباً 43,000 افراد نے قطرمیں راہداری قیام کیا ہے اور پھروہاں سے انھیں امریکا یا دوسرے ممالک میں منتقل کیا جارہا ہے۔ان میں امریکی فوجیوں اور شہریوں کے علاوہ افغان شہری شامل ہیں۔

قطر کے علاوہ دوسرے خلیجی عرب ریاستیں مغربی ممالک کے شہریوں کے ساتھ ساتھ افغان ترجمانوں، صحافیوں اور دیگرافراد کے انخلا کے لیے پروازوں کی راہداری قیام گاہ بن گئی ہیں اور وہاں افغانستان سے نکالے گئے افراد کو عارضی طورپرٹھہرایا گیا ہے۔