.

مصر میں تیز رفتار برقی ریلوے ٹریک بچھانے کے معاہدے پر دستخط

4.45 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ سیمننر کی قیادت میں قائم کنسورشیم مکمل کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کو بحیرہ روم کے ساحل سے ملانے کے لیے برقی رو سے چلنے والی تیز رفتار ٹرین کے لیے ٹریک بچھانے کا کام 4.45 ارب ڈالر کی مالیت سے مکمل ہو گا۔

اس امر کا اعلان بدھ کے روز کابینہ کے جاری کردہ بیان میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق مصر نے اس مقصد کے لیے جرمنی کی سیمنز کمپنی کی قیادت میں قائم کنسورشیم سے معاہدہ کیا ہے۔

سرنگوں سے متعلق مصر کی قومی اتھارٹی، سیمنز موبیلٹی، اوریسکام کنسٹرکشن اور عرب کنٹریکٹرز پر مشتمل کنسوریشم کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں منصوبہ کی ڈیزائنگ، تنصیب اور 15 برس تک کے لیے اس کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیا جائے گا۔

660 کلومیٹر طویل مرکزی ٹریک کے ذریعے سالانہ 30 ملین لوگ سفر کر سکیں گے۔ نیز اسی ٹریک کو بار بردار ٹرین کے لیے بھی استمعال کیا جا سکے گا۔ ٹریک کو استعمال کرنے والی ریل گاڑیاں بحیرہ احمر کی بندرگاہ عین سخنہ کو بحیرہ روم کی اسکندریہ اور مرسی مطروح بندرگاہوں سے ملائیں گی۔

اوریسکام کنسٹرکشن کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کے مالی معاملات پر 2022 تک کام مکمل ہو گا۔

سرنگوں سے متعلق مصر کی قومی اتھارٹی اور کنسورشیم نے مصر میں دو مزید تیز رفتار ریلوے لائنوں سے متعلق معاہدوں پر تبادلہ خیال پر اتفاق کیا ہے۔ اوریسکام کے بیان کے مطابق ایک ٹریک قاہرہ سے اسوان جنوب کی سمت بچھایا جائے گا جبکہ دوسرا دریائے نیل کے شہر الاقصر کو بحیرہ احمر کے الغردقہ اور سفاجا شہروں سے ملائے گا۔

کابینہ کے مطابق منصوبے کی تکمیل پر برقی ریلوے نیٹ ورک میں ٹریک کی کل لمبائی 1825 کلومیٹر ہو جائے گی۔

مصر میں ریلوے کا وسیع نظام موجود ہے لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے سرمایہ کاری کی کمی اور حادثات کی بہتات سے یہ نیٹ ورک مشکلات کا شکار چلا آ رہا ہے۔