.
افغانستان وطالبان

وادیِ پنج شیرمیں خونریزلڑائی،متحارب فورسزکا بھاری جانی نقصان؛طالبان کااعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمالی صوبہ وادیِ پنج شیر میں طالبان جنگجوؤں اوراحمدمسعود کے زیرقیادت مزاحمتی فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔طالبان نے اعتراف کیا ہے کہ بدھ کو خونریزجھڑپوں میں طرفین کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا ہے کہ طالبان پرپنج شیرمیں مزاحمت کا انتخاب کرنے والے جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا۔طالبان نے اس حملے کو پسپا کردیا ہے اور لڑائی میں متحارب فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔شمالی اتحاد کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہےکہ طالبان وادی پنج شیرمیں پیش قدمی میں ناکام رہے ہیں۔

افغان خبررساں ادارے طلوع نیوزنے خبر دی ہے کہ طالبان اورمزاحمتی تحریک کے درمیان منگل کی رات شدید لڑائی چھڑگئی تھیں۔اس کے بعد مقامی لوگ اپنے گھربار چھوڑ کرمحفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

طالبان کے ایک عہدہ دار امیرخان متقی کا کہنا ہے کہ مزاحمتی فورسز کے ساتھ مذاکرات منقطع کردیے گئے ہیں اوران کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

دریں اثناء احمد مسعود کے زیرقیادت مزاحمتی تحریک کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا ہے کہ طالبان نے گذشتہ دو راتوں کے دوران میں تین اطراف سے حملہ کیا تھالیکن وہ وادی میں کسی پیش قدمی میں ناکام رہے ہیں۔

طلوع نیوز نے ان کے حوالے سے بتایا کہ لڑائی میں دس سے زیادہ طالبان (جنگجو) ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔غیرمصدقہ ذرائع کے مطابق لڑائی میں متحارب فورسز کے ایک سو سے زیادہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

طالبان نے 15اگست کو افغانستان کے بیشترعلاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن ملک کے شمال مغرب میں واقع صوبہ پنج شیران کے قبضے میں نہیں آیا تھا۔پہاڑوں میں یہ علاقہ ماضی میں بھی طالبان کے لیے ناقابل تسخیررہا تھا۔اب وہ ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ بن گیا ہے۔مقتول جہادی رہنما اور سابق افغان وزیردفاع احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد پھر سے متحرک ہوگیا ہے۔

انھوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائےان کے خلاف مزاحمت کا عزم ظاہرکیا ہے جبکہ طالبان انھیں امن کی پیش کش کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ وادی پنج شیر میں خونریزی سے بچنا چاہتے ہیں۔طالبان نے دوہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کے سیکڑوں جنگجو اس صوبہ پرکنٹرول کے لیے وادی پنج شیرکی جانب جارہے ہیں۔