.

طالبان کے ساتھ مل کر داعش ۔ خراسان کے خلاف کارروائی کا امریکی عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ طالبان کے ساتھ مل کر دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ دفاع لائڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکہ کی ’توجہ دولتِ اسلامیہ خراسان پر ہی رہے گی۔‘

نیوز کانفرنس کے دوران طالبان میں کسی تبدیلی سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ ’یہ ماضی میں ایک بے رحم گروہ تھا اور آیا اب اس میں کوئی تبدیلی آئے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔‘

جب پریس کانفرنس کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا کابل میں کیا جانے والا ڈرون حملہ جس میں امریکہ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کا ایک ’منصوبہ ساز‘ ہلاک ہوا تھا۔

جنرل ملی کا کہنا ہے کہ ’اس ڈرون حملے کے بعد بھی کچھ دھماکے سننے کو ملے تھے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ امریکہ پراعتماد تھا کہ بارود سے بھری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن ’تمام اقدامات قواعد کے مطابق کیے گئے، یہ حملہ برحق تھا۔‘

جنرل ملی نے یہ مانا کہ اس دوران متعدد اموات ہوئیں اور ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

جنرل مارک ملی کہتے ہیں کہ 20 سالہ جنگ کے بارے میں وہ غصہ اور درد محسوس کرتے ہیں اور یہ احساسات ان خاندانوں کی طرح ہیں جو سوگ میں ہیں یا وہ فوجی جو اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

’یہ انتہائی مشکل کام ہے، جنگ مشکل ہوتی ہے۔ یہ انتہائی وحشت ناک، ظالمانہ اور بے رحم ہوتی ہے۔ اور ہاں ہم سب میں غصہ اور درد موجود ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ افغانستان میں ان کی کمانڈ میں 242 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ’لیکن میں ایک پیشہ وارانہ فوجی ہوں، میں اپنے درد اور غصے کو چھپا کر اپنا مشن جاری رکھنے کی کوشش کروں گا۔‘