.
افغانستان وطالبان

وادیِ پنج شیرمیں القاعدہ کے جنگجوطالبان کی جنگی مہم میں شامل: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی وادیِ پنج شیرمیں القاعدہ کے جنگجو بھی طالبان کی احمد مسعود کے زیرقیادت شمالی اتحاد کی فورسز کے خلاف جنگی مہم میں شامل ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق وادی پنج شیرپرچڑھائی کرنے والوں میں القاعدہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ان جنگجوؤں کی سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔اس میں انھیں عربی میں گفتگو کرتے دیکھااورسنا جاسکتا ہے۔

طالبان کےافغانستان پر15 اگست کو قبضے کے بعد سابق افغان حکومت کی باقیات فورسزاور ملیشیائیں وادیِ پنج شیر میں مورچہ بند ہوچکے ہیں۔وہ خود کو قومی مزاحمتی فورسز قراردیتے ہیں اور طالبان کی عمل داری تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

طالبان اوراحمدمسعود کے وفود کے درمیان بحران کے پُرامن طریقے سے حل کے لیے مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔اس کے بعد متحارب فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی چھڑ گئی ہے اور گذشتہ دوروز میں اس میں طرفین کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے جنگجو پنج شیرمیں داخل ہوچکے ہیں اورانھوں نے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی مسلح گروپ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہم نے کارروائی شروع کردی ہے اور مخالف فریق کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

تاہم افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا ہے کہ ان کا تمام دروں اور داخلی راستوں پر کنٹرول ہے اور انھوں نے وادی کے داخلی دروازے پر واقع ضلع شطول پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دشمن (طالبان) نے جبل السراج سے شطول میں داخلے کی متعدد کوششیں کی ہیں لیکن ان تمام کوششوں کو ناکام بنادیا گیا ہے۔جبل السراج وادی پنج شیر کے ہمسائے میں واقع صوبہ پروان کا شہر ہے۔ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہفتے کے دوران میں جھڑپوں میں حملہ آور فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پہاڑوں میں گھری ہوئی وادی پنج شیر ماضی میں بھی طالبان کے لیے ناقابل تسخیررہا تھا۔اب وہ ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ بن گیا ہے۔مقتول جہادی رہنما اور سابق افغان وزیردفاع احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد پھر سے متحرک ہوگیا ہے۔

انھوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائےان کے خلاف مزاحمت کا عزم ظاہرکیا ہے جبکہ طالبان انھیں امن کی پیش کش کرتے رہے ہیں اوران کا کہنا ہے کہ وہ وادی پنج شیر میں خونریزی سے بچنا چاہتے ہیں۔طالبان نے دوہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کے سیکڑوں جنگجو اس صوبہ پرکنٹرول کے لیے وادی پنج شیرکی جانب جارہے ہیں۔