.

طالبان وادیِ پنج شیرپرقبضے کے لیے جنگ آزما؛پاکستان کے انٹیلی جنس چیف کابل میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمالی صوبہ وادیِ پنج شیرپرقبضے کے لیے طالبان اورحزب اختلاف کی فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ پاکستان کے طاقتور سراغرساں ادارے انٹرسروسزانٹیلی جنس کے سربراہ لیفیٹننٹ جنرل فیض حمید ہفتے کے روز کابل پہنچے ہیں۔

طالبان ذرائع نے جمعہ کے روزدعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے وادی پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ احمد مسعود کے زیرقیادت مزاحمتی فورسز نے اس کی تردید کی تھی۔البتہ خود طالبان نے اب تک وادی پنج شیر پر قبضے سے متعلق کوئی سرکاری اعلان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ وادی1996سے2001ء تک طالبان کی پہلی حکومت میں بھی ان کی عمل داری سے باہر رہی تھی اوراحمد مسعود کے والد احمدشاہ مسعودکی وفادار فورسز نے ان کی بھرپور مزاحمت کی تھی اور پھر امریکا کی قیادت میں عالمی اتحاد کی مسلح افواج کی جنگی مہم کے بعد طالبان کی حکومت ہی ختم ہوگئی تھی۔

قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان فہیم دشتی نے کہا کہ طالبان کے جنگجو صوبہ کاپیسا اور پنج شیر کے درمیان سرحد پر دربندکی بلندیوں پرپہنچ گئے تھے لیکن انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

طالبان کے ایک ذرائع نے بتایا کہ پنج شیرمیں لڑائی جاری ہے لیکن دارالحکومت بازارک اورصوبائی گورنرکے دفتر کی جانب جانے والی شاہراہ پر نصب بارودی سرنگوں کی وجہ سے پیش رفت سست ہوگئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بارودی سرنگیں صاف کی جارہی ہیں اور جارحانہ کارروائیاں دونوں ایک ہی وقت میں جاری ہیں۔

قبل ازیں جمعہ کے روز طالبان کے پنج شیر پر قبضے کی اطلاعات ملنے کے بعد کابل میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ شروع کردی تھی جس کے نتیجے 17 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوگئے ہیں۔

دریں اثنا آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ہفتے کے روز کابل میں موجودگی کی اطلاعات ملی ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان کے دورے کا ایجنڈا کیا ہے لیکن پاکستان کے ایک سینئرعہدیدار نے کہا تھا کہ وہ دورے میں طالبان کو افغان فوج کی تنظیم نومیں مدد دینے کی پیش کش کرسکتے ہیں۔رواں ماہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بہت بڑھ جائے گا۔

تاہم حکومتِ پاکستان کا کہناہےکہ اس کا طالبان تحریک پر اثرورسوخ کم ہو گیا ہے، خاص طور پر جب سے واشنگٹن نے امریکی اور دیگرغیرملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کی تاریخ کا اعلان کیاتھا تو طالبان کا اعتماد بڑھ گیا اور تمام غیرملکی فورسزکی 31 اگست کو انخلا مکمل ہونے کے بعد تو وہ زیادہ خودمکتفی دکھائی دے رہے ہیں۔البتہ وہ دوسرے ممالک سے ملک کی تعمیرنو کی ضمن میں مدد کے خواہاں ہیں۔

اقوام متحدہ نے 13 ستمبر کو جنیوا میں افغانستان سے متعلق ایک بین الاقوامی امدادی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔اس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے بہ قول’’منڈلاتی انسانی تباہی‘‘کو ٹالنے کے لیے امدادی سرگرمیوں پر غور کیا جائے گا۔

مغربی طاقتوں کا کہناہے کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات کار اورانسانی امداد بھیجنے کو تیار ہیں لیکن ان کی حکومت کوباضابطہ طور پ تسلیم کرنے اور وسیع تراقتصادی امداد کاانحصارانسانی حقوق کے تحفظ کے لیے صرف وعدوں پرنہیں بلکہ اقدامات پر ہوگا۔