.
افغانستان وطالبان

کیا طالبان کی آمد پر افغانستان میں موسیقی دم توڑ دے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند سال پیشتر افغانستان میں آرکسٹرا بینڈ تشکیل دیا گیا جو اس لحاظ سے روایت پسند افغان معاشرے کا منفرد بینڈ تھا جس میں صرف خواتین شامل تھیں۔ اس بینڈ کو ’زہرہ‘ کا نام دیا گیا۔

تاہم اب اس موسیقی بینڈ کا کوئی وجود نہیں رہا کیونکہ طالبان کی آمد کے بعد خواتین کو جلد ہی تعلیم کے حصول سے بھی روک دیا جائےگا۔

طالبان کی آمد کے بعد موسیقی خاموش ہو گئی اور آرکسٹرا کے تمام ارکان غائب ہو چکے ہیں۔

زھرہ موسیقی بینڈ کی سربراہ 24 سالہ نجین خبالواک نے جب مجھے پتا چلا کہ طالبان نے کابل کے اطراف پر قبضہ کر لیا ہے تو یہ خبر میرے لیے سخت تشویش کا باعث تھی۔

اس نے بتایا کہ 15اگست کو بغیر لڑائی یا مزاحمت کے طالبان کابل میں داخل ہو گئے۔ان کے بعض دوسرے اقارب بھی موسیقی انسٹیٹیوٹ میں تربیت حاصل کر رہے تھے اورانہوں نےاکتوبر میں بین الاقوامی دورہ بھی کرنا تھا۔

نجین، جو افغانستان سے انخلا کے دوران امریکا فرار ہو گئی تھی، نے کہا کہ اب میں بالکل بے کار ہوں۔ میری تمام یادیں اور تمنائیں خاک میں مل گئی ہیں۔

افغانستان میں قومی موسیقی انسٹیٹٰوٹ کے بانی احمد سرمست جو اس وقت آسٹریلیا میں ہیں نے کہا کہ مجھے ذرا بھی یقین نہیں تھا کہ افغانستان ایک بار پھر پتھر کے دور میں داخل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرکسٹرا افغانستان میں خواتین کی آزادی اور ان کی خود مختاری کی نمائندگی کرتا ہے اور آرکسٹرا کے ارکان ہمارے ثقافتی سفیر ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان نے ان کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کو کام سے روک دیا ہے۔ زھرہ کی تمام لڑکیوں کی زندگیوں کو خوف اور خطرات لاحق ہیں۔

طالبان کی واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سرمست نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ کے سکیورٹی عملےکو یہ اطلاع ملی کہ طالبان جلد ہی ادارے کو بند کر دیں گے۔