.

مراکش اورالجزائرکی سول سوسائٹی کا دونوں ملکوں پر’عقل کی طرف واپسی‘پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش اورالجزائر کی سول سوسائٹی کی 200 سے زیادہ شخصیات نے الجزائرکی جانب سے رباط کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کے بعد ’’عقل کی طرف واپسی‘‘کی اپیل کی ہے۔

دانشوروں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے دیگرارکان نے ہفتے کے روزایک درخواست پردست خط کیے ہیں۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال غیرفطری تصادم کا باعث بن سکتی ہے اور یہ دونوں ملکوں کے عوام اور خطے کے مفادات کے برعکس ہے۔

اس اپیل پر دستخط کنندگان میں زیادہ ترمراکش سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں۔انھوں نے دونوں ملکوں سے’’عقل کی طرف واپسی‘‘اور ’’منافرت کے خلاف اقدام‘‘کا مطالبہ کیا۔

الجزائر نے گذشتہ ماہ پڑوسی ملک مراکش سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔الجزائری وزیرخارجہ رمطان العمامرہ نے ایک نیوز کانفرنس میں مراکش پرملک کے خلاف’معاندانہ اقدامات‘ کا الزام عاید کیا تھا۔مراکش کی وزارت خارجہ نے اس کے ردعمل میں کہا تھاکہ الجزائر کا اقدام مکمل طور پر بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہےاوریہ فیصلہ جھوٹے حیلے بہانوں پرمبنی ہے۔

شمالی افریقا میں واقع ان دونوں مسلم عرب ملکوں کے درمیان مغربی صحرا (صحارا) کے متنازع علاقے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔جولائی میں الجزائرکی وزارت خارجہ نے مراکش میں تعینات اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا اور مزید ممکنہ اقدامات کا بھی عندیہ دیا تھا۔

پولیساریو فرنٹ مغربی صحارا کی آزادی کے لیے مراکش کے خلاف جنگ لڑرہاہے اورالجزائر اس کا پشتیبان اور حامی ہے۔ یہ علاقہ 1970ء کے عشرے کے وسط تک اسپین کی ایک کالونی رہا تھا۔اب اس پرمراکش کا قبضہ ہے اور یہ اسی کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔الجزائر اور رباط کے درمیان تعلقات گذشتہ چار دہائیوں سے متنازع علاقے مغربی صحارا کے مسئلے پر کشیدگی کا شکار ہیں۔

جولائی میں مراکش کے شاہ محمد ششم نے کشیدگی پر افسوس کا اظہارکیاتھااور الجزائری صدرعبدالمجید تیبو پر زوردیا تھاکہ’’وہ دانش مندی سے کام لیں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی ترقی کے لیے مل جل کرکام کریں۔‘‘

یادرہے کہ مراکش نے 1976 میں الجزائرکے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے اور یہ کئی سال تک منقطع رہے تھے۔تب الجزائرنے صحراوی عرب جمہوریہ (ایس اے ڈی آر) کو تسلیم کیا تھا۔اس جمہوریہ کا اعلان پولیساریوفرنٹ نے کیا تھا۔اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد 1994ء میں بند کردی گئی تھی۔