.

امریکی فوجی اڈوں میں 21 ہزار افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپ کے اندیشے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ممالک امریکا سے اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہیں کہ جن افغان پناہ گزینوں کو یورپ کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں میں رکھا گیا ہے، انہیں امریکا منتقل کیا جائے گا۔

امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق جرمنی، اطالیہ اور ہسپانیہ میں امریکی فوجی اڈوں میں 21300 افغانیوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔ یورپ میں امریکی عسکری کمان کے ترجمان چک بریچرڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں 17 ہزار افغانی جرمنی میں، 2500 اطالیہ میں اور 1800 ہسپانیہ میں رکھے گئے ہیں۔

بریچرڈ نے مذکورہ ویب سائٹ کو بتایا کہ افغان پناہ گزین محض چند روز یورپ میں امریکی ٹھکانوں میں رہیں گے اور اس کے بعد امریکا روانہ ہو جائیں گے۔ البتہ ویب سائٹ نے امریکی وزارت خارجہ نیڈ پرائس کے بیان کا حوالہ دیا ہے۔

انہوں نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں تینوں ممالک میں ٹھہرائے گئے افغان پناہ گزینوں کے انجام کا انکشاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ لوگ امریکا میں داخلے کے لیے سیکورٹی چھان بین کے عمل میں ناکام ہو گئے تھے۔

داخلہ امور کے لیے یورپی یونین کی خاتون کمشنر ایلفا جانسن کے مطابق تینوں یورپی ممالک کو واقعتا بہت سے اندیشے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ایلفا نے مزید کہا کہ میزبان ممالک پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ افغان مہمان واقعتا امریکا جائیں گے، اس کے بعد یہ ممالک بتا سکیں گے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں"۔

امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق یورپی یونین کی قیادت پناہ گزینوں کے کسی نئے بحران سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ سال 2015ء میں 13 لاکھ افراد شام میں جاری جنگ کے نتیجے میں پناہ کے واسطے یورپی سرزمین پہنچ گئے تھے۔

ایلفا جانسن نے یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ سرحدوں پر افغانوں کے نمودار ہونے کے انتظار کے بجائے افغانوں کی دوبارہ آباد کاری کے حوالے سے پیشگی اقدامات کریں۔