.

تمباکو کی صنعت دنیا میں کرونا پھیلانے کا موجب ہے:عالمی ادارہ صحت

سیگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں کا کرونا کا شکارہونے کا زیادہ امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت کے انسداد سگریٹ نوشی یونٹ کی ایک عہدیدار ڈاکٹر ہیبی جودہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوویڈ 19 کی بیماری میں مبتلا ہونے کا زیادہ امکان 50 فیصد ہے۔ ڈاکٹر جودہ نے یہ وارننگ عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے پروگرام ’پانچ علوم ‘ "کی میزبان وسمیتا جوبٹا سمیتھ کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔

ڈاکٹر جودہ نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کرونا کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ ایسے افراد جو سیگریٹ نوشی کرتے ہیں ان کا کا کرونا کا شکار ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے لوگوں کے کرونا جیسی علامات پر اسپتال لائے جانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے زیادہ کیسز نتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں لائے جاتے ہیں جہاں انہیں مصنوعی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر جودہ نے خبردار کیا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کوویڈ 19 کی بیماری سے مرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے بہ نسبت ان کے جو کبھی تمباکو نوشی نہیں کرتے کیونکہ عام طور پر تمباکو انسانی صحت کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے جو دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ کینسر، ذیابیطس اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں سیگریٹ نوشی کا نتیجہ ہیں۔

انسانوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے اشتہارات اور تشہیر کی مہمات پر ڈاکٹر جودہ نے کہا کہ تمباکو کی صنعت اوردیگر صنعتیں جو الیکٹرانک سگریٹ کی تیاری اور مارکیٹنگ کرونا کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہورہی ہیں۔