.

متحدہ عرب امارات :غیرملکیوں کونئی’گرین ویزا‘اسکیم اورنئی ترغیبات کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز ملک کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کے موقع پر’گرین ویزا‘کے عنوان سے ایک نئی ویزا اسکیم متعارف کرائی ہے۔

یواے ای کے’گرین ویزا‘ورک پرمٹ اور اقامتی ویزا کے درمیان فرق ہے۔اس سے قبل یو اے ای میں کام کرنے والے غیرملکیوں کی رہائش ان کی ملازمت سے مشروط ہوتی تھی اوریو اے ای کے آجر اپنے ہاں ملازم تارکین وطن کے اسپانسر ہوتے تھے۔ ایسے لوگوں کوملازمت کھوجانے کی صورت میں ملک چھوڑنا پڑتا تھا یا ملک میں رہنے کے لیے نیا روزگارتلاش کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

یواے ای نے ’گرین ویزا‘انتہائی ہنرمند افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے حامل طلبہ اور گریجوایٹس کے لیے متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت دیگرچیزوں کے علاوہ فری لانسروں ، بیواؤں اور طلاق یافتہ مردوخواتین کے لیے ویزے کی پابندیاں نرم کی جارہی ہیں۔

گولڈن ویزا متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کو رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دینے کا اقدام ہے۔واضح رہے کہ یو اے ای میں پہلے ہی غیرملکیوں کی آبادی 80 فی صد سے زیادہ ہے اور وہ ملک کی معاشی ترقی کے عمل میں اہم کردار ادا کررہےہیں۔

یواےای کے غیرملکی تجارت کے وزیرمملکت ثانی الزیودی نے بتایا ہے کہ گرین ویزے کا حامل شخص خود مکتفی ہوگا اور اس کے ویزے کو کمپنیوں سے منسلک نہیں کیا جائے گا۔وہ اب 18 سال کی بجائے 25 سال تک والدین اور اپنے بچّوں کی کفالت کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے والدین اپنی بیٹی کے رہائشی ویزے کی کفالت اس وقت تک کرسکتے تھے جب تک کہ وہ شادی نہ کر لے، تاہم انھیں اپنے بیٹوں کو صرف 18 سال کی عمرتک اسپانسرکرنے کی اجازت تھی۔والدین کی کفالت کے قابل ہونے کی نئی صلاحیت بھی اہمیت کی حامل ہے۔اس سے پہلےملک میں سخت شرائط نافذالعمل تھیں۔ان کے تحت تارکین وطن کواپنے والدین کی کفالت کے لیے بعض شرائط کو پورا کرنا پڑتا تھا۔ان میں کم سے کم تن خواہ اورخاندان کے لیے کافی بڑے اپارٹمنٹ کے کرائے کا معاہدہ بھی شامل ہوتا تھا۔

دیگر نئی تبدیلیوں میں کاروباری سفر کے اجازت ناموں میں تین ماہ سے چھے ماہ تک توسیع ،ملازمت سے محرومی یا ریٹائرمنٹ کے بعد ملک چھوڑنے کی مہلت کی مدت کو 30 کی بجائے 190 دن تک بڑھانا شامل ہے۔آزاد کاروباروں کے مالکان یا خودروزگار کے حامل افراد کوفری لانس ویزے جاری کیے جائیں گے۔

ثانی الزیودی کے بہ قول ’’فری لانسروں کو خصوصی ویزے جاری کیے جائیں گے۔ان کا مقصد تارک وطن ماہرین ، ریٹائرافراد اور مختلف شعبوں کے ماہرافراد کو یواے ای میں کام کے لیے راغب کرنا ہے۔‘‘

گرین ویزا حاصل کرنے کا مکمل معیار کیا ہوگا اور یہ کب سے دستیاب ہوگا،اس سے متعلق ابھی مزید تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔