.

یواےای:اربوں کی سرمایہ کاری کےمنصوبوں اور ویزاقوانین میں نرمی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اپنی معیشت کو متحرک کرنے اور تارکینِ وطن کی اقامت کو آزاد بنانے کی غرض سے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔اس کا مقصد ملک کے مالی امورکو بہتربنانا،غیرملکی سرمائے اور تارکین وطن کو راغب کرناہے۔

متحدہ عرب امارات کے بعض وزراء نے ایک نیوزکانفرنس میں معیشت کی ترقی کے لیے ان نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے لیکن انھوں نے ان کے نمایاں خدوخال مبہم انداز میں بیان کیے ہیں۔البتہ انھوں نے یہ واضح کیا کہ وہ کرونا وائرس کے معیشت پرتباہ کن اثرات کے بعد اخراجات کو مہمیز دینا چاہتے ہیں اور مزید تارکین وطن کو ملک میں آنے کی ترغیب دینے کے لیے قوانین میں نرمی کررہے ہیں۔

معیشت کے وزیرعبداللہ بن طوق نے بتایا کہ اماراتی حکومت اگلے سال کے دوران میں معیشت میں قریباً 13.6 ارب ڈالرشامل کرے گی۔انھوں نے آنے والے برسوں میں سالانہ شرح ترقی کو 10 فی صد تک بڑھانے کے لیے دوسرے ملکوں کو سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پیش کش کی ہے۔

انھوں نے کرونا وائرس کی وبا کے بعد حکومت کی پہلی بڑی بالمشافہہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہمیں یقین ہے کہ سرمایہ کاری کی حمایت میں یہ منصوبے (متحدہ عرب امارات) کو دنیا کی سب سے مسابقانہ معیشتوں میں سے ایک بنا دیں گے۔

متحدہ عرب امارات نے اپنی آزادی کے بعد برسوں سے روزگار کواقامتی حیثیت سے مشروط کررکھا ہے۔اس پابندی سے آجروں کو لامحدود اختیارات حاصل ہوگئے اورتارکین وطن کو ملازمت سے محروم ہونے کے فوری بعد ملک چھوڑناپڑتا تھا۔

نئے منصوبوں سے اقامتی پابندی ختم ہونے کے بعد کسی ملازم کو ایک ادارے سے معطلی کے بعد کسی اور جگہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔اس کے علاوہ 15 سال سے زائدعمر کے نوجوانوں کو اپنے والدین کے ساتھ رہنے کی صورت میں روزگار حاصل کرنے،بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین یا رنڈوے افراد کو ملک میں ویزا پابندیوں کے بغیرزیادہ دیر تک مقیم رہنے کی اجازت مل جائے گی۔