.

مصر: فن کاروں کے علاج کی وڈیوز پوسٹ کرنے والے جعلی معالج کے بارے میں نئی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے والے مبینہ جعلی معالج کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ دو روز قبل ملزم یوسف خیری عبدالرحیم کو حراست میں لیے جانے کے بعد اس کا طبی مرکز بند کر دیا گیا تھا۔ ملزم یوسف "سمكري البني آدمين" کے نام سے معروف ہے۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فن کاروں اور مشہور شخصیات کی ایک بڑی تعداد ملزم یوسف کے پاس قدرتی علاج (نیچرل تھراپی) کے لیے آتی تھی۔ انہوں نے اپنے علاج کے عمل کی تصاویر اور وڈیوز بنانے کی بھی اجازت دی ہوئی تھی۔ ملزم ان تصاویر اور وڈیوز کو فیس بک پر اپنے طبی مرکز کے خصوصی صفحے پر پوسٹ کرتا تھا۔

ان پوسٹوں کے ذیل میں وہ مرکز کا پتہ ، ٹیلی فون نمبر اور ملاقات کے اوقات تحریر کرتا تھا۔ اس کا مقصد ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کا شکار مریضوں کو کشش دلا کر علاج کے نام پر ان سے بھاری رقوم اینٹھنا ہوتا تھا۔ گھر جا کر علاج کی صورت میں فیس کئی گنا زیادہ لی جاتی تھی۔

اگرچہ مصر میں نیچرل تھراپی کی ایسوسی ایشن نے ملزم یوسف پر جعلی تعلیمی سند حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاہم ملزم کے والد خیری عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اسپورٹس انجری کے شعبے میں منظور شدہ سرٹفکیٹس کا حامل ہے۔

مصری حکام نے ذاتی شناخت میں جعل سازی اور بنا اجازت نیچرل تھراپی کا پیشہ اختیار کرنے کے الزام میں ملزم یوسف کو 15 روز تک حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نیچرل تھراپی کی مصری انجمن کے ذمے دار ڈاکٹر سامی سعد نے انکشاف کیا کہ ملزم بنیادی طور پر نیچرل تھراپی کے کسی بھی ادارے سے فارغ التحصیل نہیں ہے۔ اسی بنا پر حکام کو اطلاع دی گئی جنہوں نے فوری طور پر ملزم کے مرکز پر چھاپا مارا اور اس کو حراست میں لے کر مرکز کو بند کر دیا۔