.

یواے ای: مینجر،سی ای او اور6 مختلف شعبوں کے ماہرین ’گولڈن ویزے‘ کے اہل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزے کی اہلیت میں مزید توسیع کی ہے اور اب مینجروں ،چیف ایگزیکٹو افسروں( سی ای او) اورچھے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو گولڈن ویزے جاری کیے جاسکیں گے۔

یواے ای کے اتوار کو جاری کردہ گولڈن ویزے کے نئے قواعد وضوابط کے مطابق اب سائنس ، انجنیئرنگ ، صحت ، تعلیم ، کاروبار ،انتظامیہ اورٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بھی یہ ویزے جاری کیے جائیں گے۔

اماراتی حکومت نے گذشتہ سال ڈاکٹروں، سائنس دانوں ، موجدین ، محققین ،سرمایہ کاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو گولڈن ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔یواے ای میں اس اقامتی ویزے کی میعاد دس سال ہوگی اور اس کی تجدید کی جاسکے گی۔

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ’’اعلیٰ ہُنرمندافراد ، ماہرین ، سرمایہ کاروں ، کاروباری افراد، سائنس دانوں ،موجدوں اور پہل کاروں ،امتیازی تعلیمی قابلیت کے حامل طلبہ اور گریجوایٹس کوطویل مدت کے اقامتی ویزے کے بلا رکاوٹ اجراء کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے گذشتہ روز ملک کی گولڈن جوبلی کی تقریبات کے موقع پر’گرین ویزا‘کے عنوان سے ایک نئی ویزا اسکیم متعارف کرائی ہے۔یواے ای کے’گرین ویزا‘ورک پرمٹ اور اقامتی ویزا کے درمیان فرق ہے۔

اس سے قبل یو اے ای میں کام کرنے والے غیرملکیوں کی رہائش ان کی ملازمت سے مشروط ہوتی تھی اوریو اے ای کے آجر اپنے ہاں ملازم تارکین وطن کے اسپانسر ہوتے تھے۔ ایسے لوگوں کوملازمت کھوجانے کی صورت میں ملک چھوڑنا پڑتا تھا یا ملک میں رہنے کے لیے نیا روزگارتلاش کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔

یواے ای نے ’گرین ویزا‘انتہائی ہنرمند افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ کے حامل طلبہ اور گریجوایٹس کے لیے متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت دیگرچیزوں کے علاوہ فری لانسروں ، بیواؤں اور طلاق یافتہ مردوخواتین کے لیے ویزے کی پابندیاں نرم کی جارہی ہیں۔

گولڈن ویزا متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کو رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دینے کا اقدام ہے۔واضح رہے کہ یو اے ای میں پہلے ہی غیرملکیوں کی آبادی 80 فی صد سے زیادہ ہے اور وہ ملک کی معاشی ترقی کے عمل میں اہم کردار ادا کررہےہیں۔

یواے ای نے اسی ہفتے اقتصادی مسابقت کوتقویت بہم پہنچانے کے لیے 50 نئے معاشی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اماراتی حکام کے مطابق آیندہ نوسال کے دوران میں ان منصوبوں میں بیرون ملک سے ڈیڑھ سو ارب ڈالر(550 ارب اماراتی درہم) کی براہ راست سرمایہ کاری متوقع ہے۔