.

حوثی ملیشیا کے حملے جاری، مآرب میں ایک لاکھ 30 ہزار بچے تعلیم سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مآرب گورنری پر حملے جاری ہیں۔ ان حملوں میں ہزاروں یمنی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر بار بار وارننگ دی جاتی رہی ہے مگر اس کے باوجود حوثی ملیشیا اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی طرف سے متعدد بار پناہ گزینوں اور مہاجرین کو درپیش خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر کے عارضی کیمپوں میں رہے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب تک ایک لاکھ 30 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے حملوں کے نتیجے میں بے گھر ہونےوالے افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مآرب میں نجی اسکولوں میں پناہ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسکولوں میں پناہ گزینوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہوچکی ہے۔

مقامی حکام بے گھر افراد کے بچوں کے لیے کیمپوں کی کھلی فضا میں کلاس روم کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ نوجوان نئے تعلیمی سال سے محروم نہ رہیں۔

اس تناظرمیں نائب وزیر تعلیم علی العباب نے کہا کہ گورنری کے سکول بھرے ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں طلباء کو ایڈجسٹ کرنے سے قاصرہیں۔ یہی وجہ ہےکہ بے گھر ہونے والے لوگوں کےبچوں کی بڑی تعداد سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکے گی۔

مآرب میں کیمپوں کے ایگزیکٹو یونٹ کے ڈائریکٹر سیف مثنیٰ نے وضاحت کی ، مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کیمپوں کے اندر اسکول ہیں لیکن ان میں بچوں کا ہجوم ہے۔ یہ بچے اطراف کے علاقون میں جاری لڑائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف مآرب اندرونی طور پربے گھر ہونے والے 61 فی صد یمنیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ گورنری یمن میں سب سے بڑا نقل مکانی کیمپ بن چکی ہے۔ مآرب میں الجفینہ سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہےجس میں 10 ہزار خاندان ہیں اور کیمپ میں موجود پناہ گزینوں کی تعداد 75ہزار سے زیادہ ہے۔

مآرب میں یمنی حکام نے تصدیق کی کہ سینکڑوں بے گھر افراد خطرے میں ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مداخلت اور امداد کی اپیل کی ہے۔

یمنی فوج نے چند روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حوثی ملیشیا کو پیش قدمی کی مسلسل کوششوں میں کئی محاذوں پر جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران سے منسلک حوثیوں نے فروری سے مآرب شہر کی طرف پیش قدمی کے لیے ایک فوجی مہم شروع کی تھی۔ اقوام متحدہ اور واشنگٹن کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ہزاروں افراد کے بے گھر ہونے کے خدشے کے تحت ان حملوں کو روکنے کی اپیل کی تھی۔